گواہوں کی فہرست میں شہزادہ حمزہ، ہاشم، علی، وزیر اعظم بشر الخصاونہ اور ان کے وزیر خارجہ ایمن صفدی سمیت بیس دیگر افراد شامل ہیں جن میں کمیونیکیشن کے ایک برطانوی ماہر بھی شامل ہیں جنھوں نے لبنان کے سابق وزیر اعظم رفیق حریری کے قتل معاملہ کے انداز میں بڑے معاملات میں اپنی مہارت پیش کرنے میں حصہ لیا ہے۔
سرکاری نیوز ایجنسی (پیٹرا) نے اجلاس کے بارے میں ایک مختصر کہانی شائع کی ہے جس میں میڈیا کو شرکت سے روک دیا گیا تھا اس میں بتایا گیا ہے کہ عوامی استغاثہ کے نمائندے نے اپنے اختتامی دلائل پیش کیے ہیں اور اس کے نتیجے میں ملزمان کے خلاف قانون کی دفعات کے مطابق فیصلہ اور ان کے خلاف عبرتناک سزا کا نفاذ کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔(۔۔۔)
جمعہ 22 ذی قعدہ 1442 ہجرى – 02 جولائی 2021ء شماره نمبر [15557]