سعودی وزیر توانائی شہزادہ عبد العزیز بن سلمان نے کل کہا ہے کہ وہ آج ہونے والے "اوپیک پلس" اجلاس کے بارے میں نہ تو پر امید ہیں اور نہ ہی مایوسی کا شکار ہیں لیکن انہوں نے زور دیا ہے کہ ان کا ملک سب سے بڑی قربانی پیش کر رہا ہے اور ان کی قیادت نہ ہوتی تو موجودہ وقت میں تیل کی منڈی میں بہتری نہیں آتی اور اس گفتگو میں پیداوار کی اس کمی کی طرف اشارہ ہے جس کی پابندی معاہدے کے فریم ورک کیے تحت خود سعودی عرب نے کی ہے۔
شہزادہ عبد العزیز بن سلمان نے گزشتہ روز العربیہ چینل کو بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ (اوپیک پلس) معاہدے میں توسیع ہماری اصل تجویز ہے اور پیداوار میں اضافہ ایک جزءی مسئلہ ہے۔۔۔ تیل کی مارکیٹ کو ایک طویل وقت کے لئے واضح پیغامات بھیجنا ضروری ہے۔(۔۔۔)
پیر 25 ذی قعدہ 1442 ہجرى – 05 جولائی 2021ء شماره نمبر [15560]