گزشتہ روز لبنانی شہری پبلک پراسیکیوشن کے ذریعہ سنٹرل بینک کے گورنر ریاض سلامہ سے ان کی دولت کے منبع کے بارے میں پوچھ گچھ کرنے کے امتیازی فیصلے میں مشغول تھے اور یہ معاملہ امریکی سفارتخانے کی طرف سے امریکی وزارت خزانہ کے مالی جرائم اور دہشت گردی کی مالی اعانت کا مقابلہ کرنے والے دفتر سے ایک وفد کی بیروت آمد کے اعلان کے ساتھ اٹھا ہے۔
پبلک پراسیکیوشن نے مرکزی فوجداری تحقیقاتی محکمہ کو ہدایت دی ہے کہ وہ لبنان سے باہر موجود سلامہ کو طلب کرنے کے فیصلے سے اس شرط کے ساتھ آگاہ کریں کہ وہ اگست کے شروع میں پوچھ گچھ کے لئے تاریخ مقرر کریں اور عدالتی ذرائع نے الشرق الاوسط کو بتایا ہے کہ تفتیش میں سلامہ ٰ کی دولت کی مقدار اور وسائل جاننے پر مرکوز ہوگی اور ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ لبنانی اندازے کے مطابق ان کی دولت تقریبا 500 ملین ڈالر ہے۔
پبلک پراسیکیوشن نے مرکزی فوجداری تحقیقاتی محکمہ کو ہدایت دی ہے کہ وہ لبنان سے باہر موجود سلامہ کو طلب کرنے کے فیصلے سے اس شرط کے ساتھ آگاہ کریں کہ وہ اگست کے شروع میں پوچھ گچھ کے لئے تاریخ مقرر کریں اور عدالتی ذرائع نے الشرق الاوسط کو بتایا ہے کہ تفتیش میں سلامہ ٰ کی دولت کی مقدار اور وسائل جاننے پر مرکوز ہوگی اور ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ لبنانی اندازے کے مطابق ان کی دولت تقریبا 500 ملین ڈالر ہے۔
جہاں تک امریکی وفد کے اچانک دورے کا تعلق ہے تو الشرق الاوسط کو معلوم ہوا کہ اس وفد میں امریکی محکمۂ خارجہ میں پابندیوں کی فائل سے متعلق اہلکار شامل ہیں۔(۔۔۔)
منگل 10 ذی الحجہ 1442 ہجرى – 20 جولائی 2021ء شماره نمبر [15575]