دنیا اومیکرون پر قابو پانے کی دوڑ میں ہے

ریڈ کراس کی ایمبولینسیں کو کل جنوبی افریقہ سے ڈچ شیفول پہنچنے کے بعد کورونا وائرس سے متاثرہ مریضوں کو آئسولیشن ہوٹل میں لے جاتے دیکھا جا سکتا ہے (ای پی اے)
ریڈ کراس کی ایمبولینسیں کو کل جنوبی افریقہ سے ڈچ شیفول پہنچنے کے بعد کورونا وائرس سے متاثرہ مریضوں کو آئسولیشن ہوٹل میں لے جاتے دیکھا جا سکتا ہے (ای پی اے)
TT

دنیا اومیکرون پر قابو پانے کی دوڑ میں ہے

ریڈ کراس کی ایمبولینسیں کو کل جنوبی افریقہ سے ڈچ شیفول پہنچنے کے بعد کورونا وائرس سے متاثرہ مریضوں کو آئسولیشن ہوٹل میں لے جاتے دیکھا جا سکتا ہے (ای پی اے)
ریڈ کراس کی ایمبولینسیں کو کل جنوبی افریقہ سے ڈچ شیفول پہنچنے کے بعد کورونا وائرس سے متاثرہ مریضوں کو آئسولیشن ہوٹل میں لے جاتے دیکھا جا سکتا ہے (ای پی اے)
دنیا "کورونا" وائرس (اومیکرون) کی نئی تبدیلی پر قابو پانے کے لیے وقت کے خلاف دوڑ میں داخل ہو چکی ہے جبکہ بین الاقوامی دوا ساز کمپنیاں اپنی ویکسین کو نئے تناؤ کے مطابق ڈھالنے کے طریقے تلاش کر رہی ہیں۔

خاص طور پر یورپ میں تشویش بڑھ گئی جب برطانیہ، بیلجیم اور جرمنی میں خطرناک بیماری کے کیسز کا پتہ چلا اور جنوبی افریقہ سے ایمسٹرڈیم پہنچنے کے بعد تقریباً 60 مسافروں کو نگرانی میں رکھا گیا ہے جہاں سے کئی ممالک نے آنے والی پروازوں کو معطل کرنے کا اعلان کیا ہے۔

اسی سلسلہ میں یورپی کمیشن نے دوا ساز کمپنیوں پر زور دیا ہے کہ وہ اپنی ویکسین کو بہتر بنائیں اور کمیشن کی صدر ارسولا وان ڈیر لیین نے کہا کہ یورپی یونین کی طرف سے فارماسیوٹیکل کمپنیوں کے ساتھ کیے گئے معاہدوں میں ویکسین کی تبدیلی کے لیے انہیں فوری طور پر ظاہر ہونے والے نئے تغیرات کے مطابق ڈھالنے کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔(۔۔۔)

اتوار  -23   ربیع الثانی 1443 ہجری - 28 نومبر 2021ء شمارہ نمبر [15705]