اومیکرون سائنسدانوں نے وبائی مرض کو ایک مقامی وبا میں تبدیل کردیا ہے

پیرس کے مضافات میں "کوویڈ - 19" کے مریضوں کے وارڈ میں ایک نرس کو دیکھا جا سکتا ہے (اے ایف پی)
پیرس کے مضافات میں "کوویڈ - 19" کے مریضوں کے وارڈ میں ایک نرس کو دیکھا جا سکتا ہے (اے ایف پی)
TT

اومیکرون سائنسدانوں نے وبائی مرض کو ایک مقامی وبا میں تبدیل کردیا ہے

پیرس کے مضافات میں "کوویڈ - 19" کے مریضوں کے وارڈ میں ایک نرس کو دیکھا جا سکتا ہے (اے ایف پی)
پیرس کے مضافات میں "کوویڈ - 19" کے مریضوں کے وارڈ میں ایک نرس کو دیکھا جا سکتا ہے (اے ایف پی)
چین کے شہر ووہان میں اس "کورونا" وائرس کے ابھرنے کے دو سال بعد جس کی وجہ سے لاکھوں افراد متاثر اور بے مثال معاشی اور سماجی اثرات مرتب ہوئے ہیں سائنسی برادری اور حکومتیں اس وبا کو مستقل طور پر ختم کرنے کے مقصد کو ترک کرنے اور کئی دہائیوں تک ایک ساتھ رہنے کی تیاری کر رہی ہیں جیسا کہ پچھلے پچاس سالوں میں ظاہر ہونے والے پچھلے وائرس کے ساتھ کیا گیا ہے۔

اطالوی یونیورسٹی آف بولوگنا کے شعب وائرل ڈیزیز کی جانب سے کی گئی ایک تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ وائرس عام طور پر اس وقت تک نشوونما پاتے ہیں جب تک کہ وہ منتقلی کی اعلیٰ صلاحیت تک نہ پہنچ جائیں، کیونکہ جب ان کی مہلکیت میں کمی آتی ہے تو ان کی بڑی تعداد ان کی کامیابی کی کلید ہوتی ہے اور یہی بات اومیکرون کے ساتھ ہو رہا ہے جو ممکنہ طور پر وبائی مرض کی طرف سے منتقل ہو کر رہنے والے وبا کا مرحلہ اختیار کر رہا ہے۔ (۔۔۔)

اتوار  29 جمادی الاول 1443 ہجری  - 02  جنوری  2021ء شمارہ نمبر[15741]