لاذقیہ بندرگاہ پر روسی کنٹرول کے ظاہر ہوئے آثار

لاذقیہ بندرگاہ کی تصویر دیکھی جا سکتی ہے (اسپوتنک)
لاذقیہ بندرگاہ کی تصویر دیکھی جا سکتی ہے (اسپوتنک)
TT

لاذقیہ بندرگاہ پر روسی کنٹرول کے ظاہر ہوئے آثار

لاذقیہ بندرگاہ کی تصویر دیکھی جا سکتی ہے (اسپوتنک)
لاذقیہ بندرگاہ کی تصویر دیکھی جا سکتی ہے (اسپوتنک)
شامی حزب اختلاف کے ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ روسی ملٹری پولیس نے لاذقیہ بندرگاہ میں شامی حکومت کی افواج کے ساتھ ایک مشترکہ گشت کیا ہے جس کا مقصد بندرگاہ میں مشاہداتی مقامات کو پھیلانا ہے اور اس پر روسی کنٹرول کے اثرات ظاہر ہو رہے ہیں اور یہ سب حالیہ ہفتوں میں اسرائیل کی جانب سے بدو مباری کے بعد ہوا ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس میں ایرانی ہتھیاروں کے کنٹینرز کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس نے انکشاف کیا ہے کہ روسی ملٹری پولیس نے شامی افواج کے ساتھ مل کر سوموار کو لاذقیہ بندرگاہ پر گشت کیا ہے اور ایسا اس بندرگاہ کو اسرائیلی ہتھیاروں سے نشانہ بنائے جانے کے بعد پیدا ہونے والی عوامی بے چینی کی وجہ سے کیا گیا ہے اور بندرگاہ کے اندر کنٹینر یارڈ کو نشانہ بنانے والے اسرائیلی حملے کے بارے میں روس کی طرف سے خاموشی کا مشاہدہ کیا گیا ہے اور اس کی وجہ سے بندرگاہ کے اندر بہت زیادہ آگ لگ گئی ہے اور اس سلسلہ میں روس پر شامی عوام کے خلاف سازش کرنے کا بھی الزام لگایا گیا ہے۔(...)

بدھ  16 جمادی الآخر 1443 ہجری  - 19  جنوری  2021ء شمارہ نمبر[15758]