گزشتہ روز سکیورٹی فورسز نے خرطوم میں مظاہرہ کرنے والے ایک شخص کو اس وقت گولی مار کر ہلاک کیا جب ہزاروں سوڈانی شہریوں نے دوبارہ اپنے مظاہروں کا آغاز کرتے ہوئے شہری حکمرانی کی واپسی اور جمہوری راستے کی بحالی کا مطالبہ کیا ہے اور ساتھ ہی 25 اکتوبر سے فوج کے اقتدار سنبھالنے کی کاروائی کی مذمت کی ہے اور یہ سب ملک میں سیاسی بحران کو حل کرنے کے لیے 3 ہفتوں سے جاری سوڈان میں اقوام متحدہ کے مشن (یونیتامس) کے باوجود ہوا ہے۔
سنٹرل ڈاکٹروں کی سنڈیکیٹ کے مطابق فوج کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل عبد الفتاح البرہان کی جانب سے ہنگامی حالت کے اعلان کے تین ماہ سے زائد عرصے بعد عوامی تحریک اور مظاہروں کی لہریں کم نہیں ہوئیں ہیں اور یہ اس جبر کے باوجود ہو رہا ہے جس میں اب تک 79 مظاہرین ہلاک ہو چکے ہیں جن میں 27 سالہ ایک نوجوان ہے جس کے سینے میں کل خرطوم کے اندر گولی لگی ہے۔(۔۔۔)
پیر 28 جمادی الآخر 1443 ہجری - 31 جنوری 2022ء شمارہ نمبر[15770]