قرم پل پر بمباری نے بے قابو جنگ کو جنم دیا ہےhttps://urdu.aawsat.com/home/article/3921476/%D9%82%D8%B1%D9%85-%D9%BE%D9%84-%D9%BE%D8%B1-%D8%A8%D9%85%D8%A8%D8%A7%D8%B1%DB%8C-%D9%86%DB%92-%D8%A8%DB%92-%D9%82%D8%A7%D8%A8%D9%88-%D8%AC%D9%86%DA%AF-%DA%A9%D9%88-%D8%AC%D9%86%D9%85-%D8%AF%DB%8C%D8%A7-%DB%81%DB%92
کل قرم پل پر ہونے والے دھماکے کی جگہ سے آگ کے شعلے اور دھوئیں کے بادل کو اٹھتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے (اے ایف پی)
روس اور جزیرۂ نما قرم کو ملانے والا ایک پل کو جس میں ایک سڑک اور ٹرین کی پٹڑی بھی شامل ہے کل ایک زور دار دھماکے کے بعد شدید نقصان پہنچا ہے اور اس کی وجہ سے مشرقی یوکرین میں روسی افواج کے لئے ایک اہم سپلائی روٹ کو عارضی طور پر متاثر ہونا پڑا ہے جبکہ روسی ذرائع نے کیو کی طرف انگلی اٹھایا ہے جس نے سرکاری طور پر اس کی ذمہ داری لئے بغیر بمباری کا جشن منایا ہے اور روسی ارکان پارلیمنٹ کی جانب سے فیصلہ کن ردعمل کے لئے آوازیں بلند ہونے لگی ہیں اور کنٹرول کے بغیر جنگ کا دروازہ کھولنے کی پیشرفت کے بارے میں بھی بات ہو رہی ہے۔
حکمران یونائیٹڈ رشیا پارٹی کی نمائندگی کرنے والی روسی ریاست ڈوما کے رکن اولیگ موروزوف نے کہا ہے کہ ہمارے خلاف دہشت گردی کی جنگ لڑی جا رہی ہے اور قرم پل پر دہشت گردانہ حملہ، جس کا اعلان بہت پہلے کیا گیا تھا، اب صرف ایک چیلنج نہیں رہا ہے بلکہ یہ بغیر اصولوں کے جنگ کا اعلان ہے اور دنیا اب اس پیش رفت پر روسی ردعمل کا انتظار کر رہی ہے جسے یوکرائنی بحران میں ایک نیا اور خطرناک موڑ قرار دیا جا سکتا ہے اور یوکرائنی حکام نے اس دھماکے کے بارے میں طنزیہ انداز میں بات کی ہے اور کچھ لوگ اسے روسی صدر ولادیمیر پوٹن کے لئے ان کی 70ویں سالگرہ کے موقع پر تحفہ سمجھ رہے ہیں، تاہم، جو کچھ ہوا اس کی ذمہ داری کے بارے میں کیو کی طرف سے براہ راست کوئی اعلان نہیں کیا گیا ہے۔(۔۔۔)