گزشتہ روز ترکی کے صدر رجب طیب اردگان نے 6 فروری کے زلزلے میں تباہ ہونے والے علاقوں سے اپنی انتخابی مہم کا باقاعدہ آغاز کیا، جب کہ استنبول میں اپوزیشن پارٹی کے ہیڈ کوارٹر پر حملے کے بعد ملک میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔
ترک صدر نے شام کے ساتھ سرحد کے قریب غازی عنتاب نامی علاقے میں گورنریٹ میں شروع ہاؤسنگ پروجیکٹ کے قریب ایک مجمع سے خطاب کرتے ہوئے کہا: "ہم آپ کی خدمت کے لیے آئے ہیں، آپ کی قیادت کے لیے نہیں۔"
14 مئی کے انتخابات سے چھ ہفتے قبل، سربراہ مملکت نے زلزلہ زدہ علاقوں میں تعمیر نو کے اپنے وعدوں پر عمل درآمد کو تیز کر دیا اور زلزلے سے بچ جانے والے افراد کے خیموں کا دورہ کیا،۔ یاد رہے کہ اس زلزلہ میں پچاس ہزار سے زائد افراد ہلاک، تیس لاکھ بے گھر اور لاکھوں خاندان متاثر ہوئے تھے۔
(69 سالہ) اردگان کے مدمقابل تین امیدوار ہیں، جن کے کاغذات نامزدگی کو رواں ہفتے الیکشن کمیشن نے منظور کیا ہے، یہ امیدوار حزب اختلاف کی کامیابی کی امید پر ان سے مقابلہ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں اور ان میں سرفہرست "ٹیبل آف سکس" کے امیدوار کمال کلیک دار اوغلو ہیں۔ (...)
ہفتہ - 10 رمضان 1444 ہجری - 01 اپریل 2023ء شمارہ نمبر [16195]