مسجد اقصیٰ کے حرم القدسی پر اسرائیلی پولیس کے دھاوا بولنے کے بعد عرب اور بین الاقوامی مذمتوں کا ایک سلسلہ شروع ہو گیا، جب کہ عرب لیگ نے عالمی سلامتی کونسل کے رکن ممالک کے نمائندوں اور بین الاقوامی برادری سے مطالبہ کیا ہےکہ وہ اس "خطرناک کشیدگی" کو روکنے کے لیے اسرائیل پر دباؤ ڈالیں۔
وائٹ ہاؤس نے مقبوضہ مشرقی القدس میں حرم القدسی میں ہونے والے تشدد پر اپنی "سخت تشویش" کا اظہار کیا۔ امریکی قومی سلامتی کونسل کے ترجمان جان کربی نے کہا: "اسرائیلیوں اور فلسطینیوں کو اس کشیدگی کو کم کرنے اور امن بحال کرنے کے لیے پہلے سے زیادہ مل کر کام کرنا چاہیے۔" کربی نے رمضان کے مہینے میں، جس میں مسلمان عموماً مسجد الاقصیٰ میں اعتکاف کرتے ہیں اور یہاں رات کو نماز ادا کرتے ہیں، اسرائیلیوں اور فلسطینیوں کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے ماحول میں مسجد اقصیٰ میں فلسطینی نمازیوں اور اسرائیلی پولیس کے درمیان گذشتہ رات ہونے والی پرتشدد جھڑپوں پر تبصرہ کرتے ہوئے یہ بیان دیا۔
اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انتونیو گوٹیرس نے مسجد کے اندر فلسطینی نمازیوں کے خلاف اسرائیلی سیکیورٹی فورسز کی جانب سے کیے جانے والے تشدد پر "صدمے" اور "حیرت" کا اظہار کیا۔ جب کہ عرب لیگ نے مندوبین کی سطح پر ایک ہنگامی اجلاس میں اسرائیلی فورسز کے حملے کی مذمت کی اور اسے "بین الاقوامی اور انسانی قانون کی کھلی خلاف ورزی" قرار دیا۔ (...)
جمعرات - 15 رمضان 1444 ہجری - 06 اپریل 2023 ء شمارہ نمبر [16200]