لیبیا کی متوازی استحکام حکومت، جسے بین الاقوامی سطح پر تسلیم نہیں کیا جاتا، کے سربراہ فتحی باشاغا نے "قومی ترقی" کے عنوان سے اپنی حکومت کے منصوبے کے آغاز کا اعلان کر کے عبوری قومی اتحاد کی حکومت کے سربراہ عبد الحمید الدبیبہ کے ساتھ سیاسی تقسیم اور اقتدار کی کشمکش کی صورتحال کو برقرار رکھا۔ انہوں نے پرسوں شام منعقدہ ایک پریس کانفرنس میں الدبیبہ کے ساتھ اپنی ملاقات کی تردید کرتے ہوئے زور دیا کہ "ان کے درمیان کوئی ملاقات نہیں ہوگی سوائے دارالحکومت طرابلس میں حکومتی صدر دفتر میں کہ جب الدبیبہ اقتدار ان کے حوالے کرنے پر راضی ہو جائیں گے۔"
باشاغا نے ان قیاس آرائیوں کی عملی تردید کی کہ وہ اپنے عہدے سے مستعفی ہونے کا ارادہ رکھتے ہیں، انہوں نے انتخابی قوانین کے مسودے کے لیے "نمائندگان" اور "ریاست" کے ایوانوں سے "6+6" کمیٹی کی تشکیل کا خیرمقدم کیا، علاوہ ازیں انہوں نے اپنی حکومت کے زیر کنٹرول علاقوں کی پرواہ کیے بغیر، آبادی کے اعتبار سے بلدیات کو بجٹ تقسیم کرنے کے پروگرام کا اعلان کیا۔
دوسری جانب الدبیبہ نے ان بیانات کو نظر انداز کردیا، اور پرسوں شام دارالحکومت طرابلس میں اپنے کچھ وزراء کے ساتھ پانی اور سیوریج کی کمپنی کا معائنہ کیا۔ جہاں انہوں نے "بیس سال سے زائد عرصے سے نظرانداز کیے گئے 24 اسٹیشنوں کی مرمت اور ترقی کے ایک قومی پروجیکٹ کو شروع کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔" (...)
جمعرات - 15 رمضان 1444 ہجری - 06 اپریل 2023 ء شمارہ نمبر [16200]