روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف کے کل (جمعرات کے روز) شروع ہونے والے دو روزہ انقرہ کے دورے پر ترکی اور شام کے درمیان تعلقات کو معمول پر لانے کی فائل حاوی ہے۔ یاد رہے کہ ان کا یہ دورہ ان کے ترک ہم منصب مولود جاویش اوغلو کی دعوت پر ہے جو کہ انقرہ اور دمشق کے درمیان تعلقات کو معمول پر لانے کے لیے ماسکو میں منعقدہ چار فریقی مذاکراتی اجلاس کے اگلے روز ہے۔ روسی وزارت خارجہ کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ لاوروف اور جاویش اوغلو کے مابین ہونے والی بات چیت کے ایجنڈے میں یوکرین، جنوبی قفقاز، مشرق وسطیٰ، شمالی افریقہ اور بحیرہ اسود کے علاقے کی صورت حال سمیت اناج کا معاہدہ اور ترک - شام تعلقات کو معمول پر لانا شامل ہے۔ علاوہ ازیں اس سلسلے میں انقرہ اور دمشق کو مدد فراہم کرنے کے اقدامات میں ایران کو روس اور ترکی کے ساتھ "آستانہ ٹریک" میں تیسرے ضامن ملک کے طور روس اور ترکی کے ساتھ "آستانہ ٹریک" میں تیسرے ضامن ملک کے طور ان چار رکنی اجلاس میں شریک کرنا ہے۔
شام کی فائل بات چیت کے ایجنڈے پر مضبوطی سے قائم ہے جس میں انقرہ اور دمشق کے درمیان تعلقات کو معمول پر لانے پر عمل درآمد بھی شامل ہے۔ (...)
جمعہ - 16 رمضان 1444 ہجری - 07 اپریل 2023 ء شمارہ نمبر [16201]