لبنان کے سیاسی حلقوں کا کہنا ہے کہ جنوبی لبنان سے شمالی اسرائیل کے علاقے الجلیل کی طرف میزائل داغے جانے کے بارے میں "شیعہ کی خاموشی" کا مطلب یہ نہیں ہے کہ "حزب اللہ" اس سلسلے میں تحریک "امل" سے متفق ہے، بلکہ ان کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہے۔ لیکن انہوں نے اس اختلاف کو عوام کے سامنے ظاہر نہ کرنے کا فیصلہ کیا تاکہ جنوبی علاقے میں اس کے منفی اثرات کو روکا جا سکے۔
ذرائع نے بتایا کہ اگرچہ تحریک "امل" کی خاموشی اس کے اتحادی "حزب اللہ" کی خاموشی سے ہم آہنگ ہے، لیکن یہ جنوبی علاقے کی سلامتی و استحکام کے ساتھ کھیلنے پر مطمئن نہیں اور نہ ہی غلط ٹائمنگ پر سیاسی کور فراہم کرتی ہے، کہ فلسطین کی طرف سے میزائل داغنے کا حکم دے جو کہ قرارداد 1701 کی خلاف ورزی ہے۔
صدارتی بحران کے بارے میں باخبر فرانسیسی ذرائع نے کہا کہ "تمام امور اپنی جگہ پر قائم ہیں" اور فوری طور پر کسی پیش رفت کا کوئی امکان نہیں، جس کا مطلب ہے کہ "صدارتی کھچڑی" ابھی پک کر تیار نہیں ہوئی۔ دوسری جانب پیرس کو اب بھی یقین ہے کہ اس کی تجویز کردہ ڈیل "بہترین اختیار ہے،" جیسا کہ اس نے سلیمان فرنجیہ کے انتخاب پر بہت سے اعتراضات کو نظر انداز کر دیا ہے۔ فرانسیسی فریق کا استدلال یہ ہے کہ فرنجیہ، جنہوں نے حال ہی میں ایلیسی پیلس میں سفارتی سیل سے ملاقات کی تھی، وہ "حزب اللہ" اور شام سے "کچھ حاصل کرنے" کے لیے سب سے زیادہ اہل ہیں، اور ان کی پہنچ ایران تک ہے۔ (...)
بدھ - 21 رمضان 1444 ہجری - 12 اپریل 2023ء شمارہ نمبر [16206]