بائیڈن نیتن یاہو پر زور دے رہے ہیں کہ غزہ میں شہریوں کے تحفظ کی "اشد ضرورت" ہے

امریکی صدر جو بائیڈن (روئٹرز)
امریکی صدر جو بائیڈن (روئٹرز)
TT

بائیڈن نیتن یاہو پر زور دے رہے ہیں کہ غزہ میں شہریوں کے تحفظ کی "اشد ضرورت" ہے

امریکی صدر جو بائیڈن (روئٹرز)
امریکی صدر جو بائیڈن (روئٹرز)

امریکی صدر جو بائیڈن نے اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کے ساتھ ٹیلی فونک رابطے میں اس بات پر زور دیا کہ غزہ کے بڑے شہروں اور اس کے اطراف میں لڑائی میں شدت کے دوران شہریوں کے تحفظ کی "اشد ضرورت" ہے۔

بائیڈن نے 26 نومبر کے بعد نیتن یاہو کے ساتھ اپنی پہلے ٹیلی فونک رابطے میں "شہری آبادی کو حماس سے الگ کرنے کے لیے" انسانی ہمدردی کی راہداریوں کے قیام کا مطالبہ کیا۔

امریکی ایوان صدر نے بیان میں کہا: "صدر نے شہریوں کے تحفظ اور شہری آبادی کو حماس سے الگ کرنے کی فوری ضرورت پر زور دیا، تاکہ لوگوں کو راہداریوں کے ذریعے لڑائی کے مخصوص علاقوں سے محفوظ انداز میں منتقل ہونے کی اجازت دی جائے۔"

علاوہ ازیں، واشنگٹن نے اسرائیل کو، جو گزشتہ ہفتے جنگ بندی کے خاتمے کے بعد   اس وقت جنوبی غزہ پر پھر سے حملے کر رہا ہے، مطلع کیا کہ ہلاکتیں اور بے گھر افراد کی تعداد اتنی زیادہ نہیں ہونی چاہیے جتنی شمالی غزہ کی پٹی پر حملے کے دوران تھی۔ (...)

جمعہ-24 جمادى الأولى 1445ہجری، 08 دسمبر 2023، شمارہ نمبر[16446]



بائیڈن فلسطینیوں کو "انسانی ہمدردی" کی بنا پر ملک بدری سے تحفظ فراہم کر رہے ہیں

امریکی صدر جو بائیڈن (ای پی اے)
امریکی صدر جو بائیڈن (ای پی اے)
TT

بائیڈن فلسطینیوں کو "انسانی ہمدردی" کی بنا پر ملک بدری سے تحفظ فراہم کر رہے ہیں

امریکی صدر جو بائیڈن (ای پی اے)
امریکی صدر جو بائیڈن (ای پی اے)

وائٹ ہاؤس کے اعلان کے مطابق، امریکی صدر جو بائیڈن نے امریکہ میں مقیم فلسطینیوں کو ملک بدری سے 18 ماہ کے لیے قانونی تحفظ فراہم کر دیا ہے، جب کہ بائیڈن کو انتخابی سال میں غزہ پر اسرائیلی حملے کی حمایت کے سبب بڑھتے ہوئے غصے کا بھی سامنا ہے۔

قومی سلامتی کے مشیر جیک سلیوان نے کہا کہ بائیڈن نے غزہ کی پٹی میں "جاری تنازعہ اور انسانی ضروریات کی روشنی میں" فلسطینیوں کی ملک بدری پر پابندی کے حکم نامے پر دستخط کیے ہیں۔

"نیویارک ٹائمز" نے اطلاع دی ہے کہ اس قانون کے اطلاق سے تقریباً چھ ہزار فلسطینی مستفید ہونگے، کیونکہ تحفظ کا یہ قانون تارکین وطن کو ان کے آبائی ممالک میں بحران کی صورت میں ریاست ہائے متحدہ امریکہ میں رہنے کی اجازت فراہم کرتا ہے۔

خیال رہے کہ یہ اقدام اس وقت سامنے آیا ہے کہ جب وائٹ ہاؤس غزہ میں اسرائیلی جنگ کے سبب رائے دہندگان کے بڑھتے ہوئے غصے کو کم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ کیونکہ اسے خدشہ ہے کہ اس سے بائیڈن کے نومبر کے انتخابات میں دوسری بار جیتنے کے امکانات میں کمی واقع ہوگی۔

بائیڈن انتظامیہ کے اہلکاروں نے حال ہی میں مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد والی ریاست مشی گن کا دورہ کیا، تاکہ مقامی کمیونٹی رہنماؤں سے جنگ کے بارے میں ان کے خدشات کے بارے میں بات کی جا سکے۔

لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ ایک ایسے وقت میں بھی آیا ہے کہ جب ڈیموکریٹک صدر کو امیگریشن پر بڑھتی ہوئی تنقید کا سامنا ہے، خاص طور پر میکسیکو سے تارکین وطن کی بڑی تعداد غیر قانونی طور پر جنوبی سرحد عبور کر کے امریکہ میں داخل ہو رہے ہیں۔(...)

جمعرات-05 شعبان 1445ہجری، 15 فروری 2024، شمارہ نمبر[16515]