دنیا ایک نئے کثیر جہتی نظام کی منتظر

سات بڑے صنعتی ممالک کے جھنڈوں کی تصویر (رائٹرز)
سات بڑے صنعتی ممالک کے جھنڈوں کی تصویر (رائٹرز)
TT

دنیا ایک نئے کثیر جہتی نظام کی منتظر

سات بڑے صنعتی ممالک کے جھنڈوں کی تصویر (رائٹرز)
سات بڑے صنعتی ممالک کے جھنڈوں کی تصویر (رائٹرز)

چین ، روس، امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے مابین اسٹریٹجک اہمیت کے حامل دیگر ممالک کی حکومتوں اور ان کی عوام کے دل و دماغ پر چھانے کی کوششوں میں شدت کے ساتھ آج دنیا اثر و رسوخ کی جدوجہد کے ایک نئے دور کے دہانے پر کھڑی ہے۔

توقع کی جا رہی ہے کہ مسابقتی طاقتوں پر مشتمل کثیر قطبی عالمی نظام کے خدوخال آنے والے مہینوں میں اعلیٰ سطحی اجلاسوں کے سلسلے کے ذریعے ظاہر ہوں گے، اور اس کا آغاز آج 19 مئی بروز جمعہ جاپان میں سات بڑے صنعتی ممالک کے گروپ کے سالانہ سربراہی اجلاس سے ہو رہا ہے۔

"بلومبرگ" کی طرف سے شائع کردہ ایک تجزیہ جسے ایجنسی نے باخبر ذرائع اور دستاویزات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ سات بڑے صنعتی ممالک کے گروپ کے رہنما اور یورپی یونین مختلف ممالک کے منتخب گروپ کو متوجہ کرنے کا منصوبہ شروع کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں، جسے انہوں نے روس اور چین دونوں کے ساتھ عالمی "پیشکشوں کی جنگ" کا نام دیا ہے۔ مغربی ممالک کی اس حکمت عملی میں "وسطی خطے کے ممالک"، جسے برازیل، ویتنام، جنوبی افریقہ اور قازقستان، شام ہیں۔ (...)

جمعہ - 29 شوال 1444 ہجری - 19 مئی 2023ء شمارہ نمبر [16243]



حوثیوں سے جہاز رانی کے خطرات کی مذمت پر سلامتی کونسل کی قرارداد پر ووٹنگ ملتوی

نیویارک میں سلامتی کونسل کے اجلاس کا منظر (اے ایف پی) 
نیویارک میں سلامتی کونسل کے اجلاس کا منظر (اے ایف پی) 
TT

حوثیوں سے جہاز رانی کے خطرات کی مذمت پر سلامتی کونسل کی قرارداد پر ووٹنگ ملتوی

نیویارک میں سلامتی کونسل کے اجلاس کا منظر (اے ایف پی) 
نیویارک میں سلامتی کونسل کے اجلاس کا منظر (اے ایف پی) 

سلامتی کونسل نے بحیرہ احمر میں حوثی گروپوں کے حملوں کے خلاف کل ہونے والی ووٹنگ ملتوی کر دی ہے، جیسا کہ نیویارک میں باخبر ذرائع نے کہا: روس ایسی ترامیم لانا چاہتا تھا جن پر نظرثانی کی ضرورت تھی، چنانچہ توقع ہے کہ آج جمعرات کے روز ووٹنگ دوبارہ ایجنڈے پر واپس آجائے گی۔

قرارداد کا مسودہ امریکہ نے بحیرہ احمر میں تجارتی بحری جہازوں، بین الاقوامی نیویگیشن اور خطے میں اہم آبی گزرگاہوں کے خلاف ایرانی حمایت یافتہ حوثی گروپ کے حملوں کی "ممکنہ سخت ترین الفاظ میں مذمت" کے لیے تیار کیا تھا تاکہ یہ "باور کرایا" جائے کہ دنیا کے ممالک کو اپنے جہازوں کے دفاع کا حق حاصل ہے اور بین الاقوامی قراردادوں پر عمل درآمد کرنے کی ضرورت ہے، جیسا کہ قرارداد 2140، 2216 اور 2624 کے مطابق حوثی گروپ کو ہتھیار، گولہ بارود اور دیگر فوجی ساز و سامان کی منتقلی ممنوع ہیں۔

قرارداد کا مسودہ تیار کرنے والا ملک (امریکہ) پہلے سے اس بات کی تصدیق نہیں کر سکا کہ آیا پانچ مستقل ارکان، امریکہ، برطانیہ، فرانس، چین اور روس، میں سے کوئی بھی ویٹو پاور کا استعمال کیے بغیر اس قرارداد کو جاری کرنے کی اجازت دیں گے، کیونکہ کسی بھی قرارداد کی منظوری کے لیے سلامتی کونسل کے کل 15 اراکین میں سے 9 ووٹوں کی ضرورت ہوتی ہے۔  (...)

جمعرات-29 جمادى الآخر 1445ہجری، 11 جنوری 2024، شمارہ نمبر[16480]