لیبیا میں سمندری طوفان سے مرنے والوں کی تعداد 5000 سے تجاوز کر گئی

گزشتہ روز سمندری طوفان کے نتیجے میں درنہ میں ہونے والی تباہی کا منظر (رائٹرز)
گزشتہ روز سمندری طوفان کے نتیجے میں درنہ میں ہونے والی تباہی کا منظر (رائٹرز)
TT

لیبیا میں سمندری طوفان سے مرنے والوں کی تعداد 5000 سے تجاوز کر گئی

گزشتہ روز سمندری طوفان کے نتیجے میں درنہ میں ہونے والی تباہی کا منظر (رائٹرز)
گزشتہ روز سمندری طوفان کے نتیجے میں درنہ میں ہونے والی تباہی کا منظر (رائٹرز)

لیبیا کے شہر درنہ میں بحیرہ روم کے کنارے لوگ لہروں کا انتظار کر رہے ہیں کہ وہ ان کے رشتہ داروں کی لاشیں واپس لے آئیں، جنہیں گزشتہ اتوار کو سمندری طوفان "ڈینیئل" بہا لے گیا تھا۔ جب کہ ہلال احمر کی امدادی ٹیمیں جب بھی سمندر سے کسی لاش کو پکڑتی ہیں تو لوگ اس کی شناخت کی امید پر اس کے گرد جمع ہو جاتے ہیں۔

درنہ میں شہریوں کی جانب سے بڑی تعداد میں لاشوں کی موجودگی کی شکایات کی جا رہی ہیں کہ انہیں وہاں سے اٹھایا جائے جب کہ سمندر کی لہریں دیگر درجنوں افراد کی لاشوں کو واپس پھینک رہی ہے، دریں اثنا مشرقی لیبیا میں "تباہی" کا مشاہدہ کرنے والے شہروں سے وسیع پیمانے پر نقل مکانی بھی کی جا رہی ہے۔

انٹرنیشنل آرگنائزیشن فار مائیگریشن نے بتایا کہ تقریباً 36,000 افراد بے گھر ہوگئے ہیں جن میں سے 30 صرف درنہ میں ہیں اور باقی افراد بن غازی اور درنہ کے درمیان واقع البیضا اور المخیلی شہروں میں ہیں۔

البیضاء میڈیکل سینٹر کے ڈائریکٹر عبدالرحیم مازق کے مطابق، بین الاقوامی تنظیم نے تصدیق کی ہے کہ "ہلاکتوں کی تعداد کی ابھی تک غیر حتمی ہے،" کیونکہ "استحکام" حکومت میں وزارت داخلہ کے میڈیا اہلکار محمد ابو لموشہ کے مطابق، درنہ میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 5,300 کے درمیان ہے، اور جب کہ سیلاب سے متاثرہ دیگر شہروں میں ہلاکتوں کی تعداد 20 ہزار ہے۔(...)

جمعرات-29 صفر 1445ہجری، 14 ستمبر 2023، شمارہ نمبر[16361]



طوفانی بارشوں سے لاذقیہ ڈوب گیا اور چھپی ہوئی چیزیں بے نقاب

لاذقیہ میں طوفانی بارش کے بعد گیس سلنڈر کو بچانے کی کوشش کی جا رہی ہے (سانا)
لاذقیہ میں طوفانی بارش کے بعد گیس سلنڈر کو بچانے کی کوشش کی جا رہی ہے (سانا)
TT

طوفانی بارشوں سے لاذقیہ ڈوب گیا اور چھپی ہوئی چیزیں بے نقاب

لاذقیہ میں طوفانی بارش کے بعد گیس سلنڈر کو بچانے کی کوشش کی جا رہی ہے (سانا)
لاذقیہ میں طوفانی بارش کے بعد گیس سلنڈر کو بچانے کی کوشش کی جا رہی ہے (سانا)

گزشتہ دو دنوں کے دوران شام کے ساحل سے ٹکرانے والے طوفان اور شدید بارشوں کے بعد لاذقیہ شہر میں آنے والے سیلاب کے نتیجے میں سڑکیں اور درجنوں عمارتوں کی زیریں منزلیں زیر آب آ گئیں جس سے کچھ سرکاری اور نجی سہولیات معطل ہو کر رہ گئیں۔

شدید بارشوں سے ہونے والے نقصانات کے نتیجے میں لاذقیہ کے گورنر انجینئر عامر اسماعیل ہلال نے اتوار کے روز اسکول بند رکھنے کا اعلان کیا۔

لاذقیہ سٹی کونسل کے سربراہ حسین زنجرلی نے ایک مقامی ریڈیو کو ایک بیان میں کہا کہ اتوار کا دن لاذقیہ کے لیے انتہائی مشکل ہے اور "ہم نے اس کے لیے بھرپور تیاری کر رکھی ہے،" چنانچہ ہم لوگوں سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ بارش کے دوران نقل و حرکت کم کریں۔

لاذقیہ کے مقامی ذرائع نے کہا ہے کہ سیلاب سے دیہاتوں اورقصبوں میں کھیتوں اور مویشیوں کو بہت زیادہ نقصان پہنچا ہے، جب کہ شہر میں القنجرہ کے علاقے، الجمہوریہ اسٹریٹ، "پروجیکٹ بی"، الزقزقانیہ، الازہری اسکوائر اور الرمل الجنوبی میں کاروں اور درجنوں زیریں منزلوں کو نقصان پہنچا ہے۔ (...)

پیر-09 شعبان 1445ہجری، 19 فروری 2024، شمارہ نمبر[16519]