مارونائٹس کو نظر انداز کرنا بند کریں: الراعی کا پارلیمنٹ سے خطاب

کسی بیرونی انتظار کے بغیر لبنان کے صدر کو منتخب کرنے کا مطالبہ

الراعی فوجی کمانڈر سے ملاقات کے دوران جو اپنی والدہ کی تعزیت کرنے پر ان کا شکریہ ادا کرنے کے آئے تھے (ایکس پر مارونائٹ پیٹریارکیٹ اکاؤنٹ)
الراعی فوجی کمانڈر سے ملاقات کے دوران جو اپنی والدہ کی تعزیت کرنے پر ان کا شکریہ ادا کرنے کے آئے تھے (ایکس پر مارونائٹ پیٹریارکیٹ اکاؤنٹ)
TT

مارونائٹس کو نظر انداز کرنا بند کریں: الراعی کا پارلیمنٹ سے خطاب

الراعی فوجی کمانڈر سے ملاقات کے دوران جو اپنی والدہ کی تعزیت کرنے پر ان کا شکریہ ادا کرنے کے آئے تھے (ایکس پر مارونائٹ پیٹریارکیٹ اکاؤنٹ)
الراعی فوجی کمانڈر سے ملاقات کے دوران جو اپنی والدہ کی تعزیت کرنے پر ان کا شکریہ ادا کرنے کے آئے تھے (ایکس پر مارونائٹ پیٹریارکیٹ اکاؤنٹ)

مارونائٹ پیٹریارک بیچارا الراعی نے لبنانی پارلیمانی نمائندوں سے مطالبہ کیا کہ وہ مارونیوں پر ظلم کرنا بند کریں اور بیرونی اشارے کا انتظار کیے بغیر ملک کا صدر منتخب کریں۔

الراعی نے کل اپنے اتوار کے خطبہ میں کہا: "صدر کا انتخاب کرنا آئین کی رو سے ان کے قومی ضمیر اور بطور نمائندہ پہلا فرض ہے، جبکہ ان کا اس فرض سے مسلسل کنارہ کشی اختیار کرنا ان کے منتخب ہونے کے دن عوام کے ان پر اعتماد میں واضح خیانت ہے۔ ہم امید کرتے ہیں کہ یہ کہاوت ان پر لاگو نہ ہو: (جو تمہیں خرید سکتا ہے، وہ فروخت بھی کرے گا)۔ چنانچہ ہم کہتے ہیں کہ بعبدا صدارتی محل کی بندش اور مارونائٹ کمیونٹی کو چھوڑنا بہت ہو چکا! جب کہ یہ لبنان کی تشکیل کا بنیادی عنصر ہیں! اس لیے اے قوم کے نمائندو! عوام اور آئین کی طرف سے آپ کو سونپی گئی ذمہ داریوں  کو پورا کرتے ہوئے ریاست کے صدر کا انتخاب کریں تاکہ وہ اس تصادم کی کیفیت اور اداروں کے انتشار سے نکل سکیں۔ اور ان میں سرفہرست آپ کی پارلیمنٹ ہے، جو اپنی قانون سازی کی صلاحیت کھو چکی ہے اور حکومت کے پاس اختیارت کا فقدان ہے۔"

الراعی نے اپنے موقف کو مزید واضح کرتے ہوئے کہا کہ "ضرورت کے تحت قانون سازی، اور ضرورت کے تحت تقرری جیسے امور سے نکلیں اور ضرورت کے تحت صرف ایک ہی کام کریں کہ ملک کے صدر کا انتخاب کر لیں، تاکہ تمام ادارے اپنی اصل قانونی حیثیت میں دوبارہ کام کرنے لگیں۔ (...)

پیر-10 رجب 1445ہجری، 22 جنوری 2024، شمارہ نمبر[16491]



مصر اور ترکیا "نئے صفحہ" کا آغاز کر رہے ہیں

سیسی قاہرہ میں اردگان سے ملاقات کرتے ہوئے (مصری ایوان صدر)
سیسی قاہرہ میں اردگان سے ملاقات کرتے ہوئے (مصری ایوان صدر)
TT

مصر اور ترکیا "نئے صفحہ" کا آغاز کر رہے ہیں

سیسی قاہرہ میں اردگان سے ملاقات کرتے ہوئے (مصری ایوان صدر)
سیسی قاہرہ میں اردگان سے ملاقات کرتے ہوئے (مصری ایوان صدر)

مصر اور ترکیا نے دوطرفہ تعلقات کی راہ میں ایک "نئے دور" کا آغاز کیا اور کل (بروز بدھ)، قاہرہ نے مصری صدر عبدالفتاح السیسی اور ان کے ترک ہم منصب رجب طیب اردگان کے درمیان ایک سربراہی اجلاس کی میزبانی کی۔ جب کہ اردگان نے گذشتہ 11 سال سے زائد عرصے میں پہلی بار مصر کا دورہ کیا ہے۔

السیسی نے اردگان کے ساتھ ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں کہا کہ "یہ دورہ ہمارے دونوں ممالک کے درمیان ایک نیا صفحہ کھولتا ہے، جو ہمارے دوطرفہ تعلقات کو فروغ دے گا۔" انہوں نے آئندہ اپریل میں ترکی کے دورے کی دعوت قبول کرنے کا اظہار کیا۔

جب کہ دونوں صدور کے درمیان ہونے والی بات چیت میں دوطرفہ اور علاقائی سطح پر مشترکہ تعاون کے مختلف پہلوؤں پر بات چیت ہوئی۔

اردگان نے وضاحت کی کہ بات چیت میں غزہ کی جنگ سرفہرست رہی۔ جب کہ انہوں نے اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کی حکومت پر "قتل عام کی پالیسی اپنانے" کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ غزہ پر بمباری نیتن یاہو کی طرف سے ایک "جنونی فعل" ہے۔ دوسری جانب، السیسی نے زور دیا کہ انہوں نے ترک صدر کے ساتھ غزہ میں "جنگ بندی" کی ضرورت پر اتفاق کیا ہے۔ (...)

جمعرات-05 شعبان 1445ہجری، 15 فروری 2024، شمارہ نمبر[16515]