"جی 7" کا یوکرین کو طویل مدتی مدد فراہم کرنے کا عہد

زیلنسکی ہیروشیما میں "جی 7" ممالک کے سربراہی اجلاس میں رکن ممالک کے رہنماؤں کے درمیان بیٹھے ہیں (یورپی کمیشن)
زیلنسکی ہیروشیما میں "جی 7" ممالک کے سربراہی اجلاس میں رکن ممالک کے رہنماؤں کے درمیان بیٹھے ہیں (یورپی کمیشن)
TT

"جی 7" کا یوکرین کو طویل مدتی مدد فراہم کرنے کا عہد

زیلنسکی ہیروشیما میں "جی 7" ممالک کے سربراہی اجلاس میں رکن ممالک کے رہنماؤں کے درمیان بیٹھے ہیں (یورپی کمیشن)
زیلنسکی ہیروشیما میں "جی 7" ممالک کے سربراہی اجلاس میں رکن ممالک کے رہنماؤں کے درمیان بیٹھے ہیں (یورپی کمیشن)

یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی کل ہیروشیما میں "جی 7" کے رکن ممالک سے سربراہی اجلاس کے دوران یوکرین کے لیے طویل مدتی فوجی اور سفارتی حمایت کے وعدوں کے ساتھ روانہ ہوئے۔

زیلنسکی نے گروپ کے رکن ممالک کے سربراہان اور وزرائے اعظم کے اجلاس کے دوران اپنے ملک کو 375 ملین ڈالر مالیت کے گولہ بارود، توپ خانے اور نئی بکتر بند گاڑیاں دیئے جانے کا امریکی وعدہ لیا۔ علاوہ ازیں یوکرین کو واشنگٹن کی جانب سے "F-16" لڑاکا طیاروں کی فراہمی کے لیے جمعہ کے روز گرین سگنل ملا، جب کہ وہ طویل عرصے سے اس کا مطالبہ کر رہا تھا۔

زیلنسکی پرسوں ہفتے کے روز اس وقت ہیروشیما پہنچے کہ جب روس کی جانب سے یوکرین کے شہر باخموت کو اپنی افواج کے ہاتھوں کنٹرول کرنے کا اعلان کیا، جہاں فروری 2022 میں ملک پر ہونے والے حملے کے آغاز سے طویل ترین شدید لڑائی کا مشاہدہ کیا گیا۔

کل یوکرینی صدر نے تصدیق کی کہ روسی افواج باخموت کے اندر موجود ہیں، لیکن ابھی تک شہر پر "قبضہ نہیں" کیا۔ انہوں نے "جی 7" سربراہی اجلاس کے موقع پر ایک پریس کانفرنس میں کہا: "آج وہ باخموت میں ہیں،" انہوں نے مزید کہا، "آج باخموت پر روس کا قبضہ نہیں ہے۔" (...)

پیر - 02 ذی القعدہ 1444 ہجری - 22 مئی 2023ء شمارہ نمبر [16246]



روس کا یوکرین میں ہزاروں ٹینکوں کو کھونے کے بعد اپنے پرانے ٹینکوں کو دوبارہ استعمال کرنے کی کیا کہانی ہے؟

کیف کے قریب روسی ٹینک (روئٹرز)
کیف کے قریب روسی ٹینک (روئٹرز)
TT

روس کا یوکرین میں ہزاروں ٹینکوں کو کھونے کے بعد اپنے پرانے ٹینکوں کو دوبارہ استعمال کرنے کی کیا کہانی ہے؟

کیف کے قریب روسی ٹینک (روئٹرز)
کیف کے قریب روسی ٹینک (روئٹرز)

ایک معروف تحقیقی مرکز نے کل منگل کے روز کہا کہ روس، یوکرین جنگ میں 3 ہزار سے زیادہ ٹینک کھو چکا ہے جو کہ جنگ سے قبل اس کے مجموعی ذخیرے کے برابر ہے، لیکن اس کے پاس کم معیار کی کافی بکتر بند گاڑیاں ہیں جو بدلنے کے لیے سالوں سے محفوظ ہیں۔

خبر رساں ادارے "روئٹرز" کے مطابق انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ برائے اسٹریٹجک اسٹڈیز نے کہا ہے کہ فروری 2022 میں روسی حملے کے بعد سے یوکرین کو بھی بھاری نقصان اٹھانا پڑا ہے، لیکن مغرب کی جانب سے فوجی امداد ملنے سے اس کے اسٹاک اور معیار کو بہتر بنانے میں مدد ملی۔

انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ برائے اسٹریٹجک اسٹڈیز کی سالانہ ملٹری بیلنس رپورٹ، جو کہ دفاعی تجزیہ کاروں کے لیے ایک اہم تحقیقی آلہ ہے، کے مطابق روس کا ٹینکوں کی کثیر تعداد کو کھو دینے کے بعد اب بھی اس کے پاس یوکرین سے لڑنے کے لیے تقریباً دو گنا زیادہ ٹینک موجود ہیں، جب کہ صرف پچھلے سال میں روس نے تقریباً 1120 ٹینکوں کو کھو دیا ہے۔

انسٹی ٹیوٹ میں فوجی صلاحیتوں کے ماہر ہنری بائیڈ نے کہا کہ ہتھیاروں کو بدلنے سے صرف نظر روس نے ٹینکوں کے نقصان میں تقریباً "برابری کا نقطہ" حاصل کر لیا ہے۔ جیسا کہ ایک اندازے کے مطابق اس نے پچھلے سال تقریباً 1,000 سے 1,500 اضافی ٹینکوں کو شامل کیا تھا۔(...)

بدھ-04 شعبان 1445ہجری، 14 فروری 2024، شمارہ نمبر[16514]