ریاض آئندہ اکتوبر میں "مستقبل کی سرمایہ کاری کانفرنس" کی میزبانی کرے گا

جو بحران پر قابو پانے میں عالمی مکالموں کے اثرات سے متعلق ہے

مزید موضوعات کو شامل کرنے کے لیے کانفرنس پر بات چیت (SPA)
مزید موضوعات کو شامل کرنے کے لیے کانفرنس پر بات چیت (SPA)
TT

ریاض آئندہ اکتوبر میں "مستقبل کی سرمایہ کاری کانفرنس" کی میزبانی کرے گا

مزید موضوعات کو شامل کرنے کے لیے کانفرنس پر بات چیت (SPA)
مزید موضوعات کو شامل کرنے کے لیے کانفرنس پر بات چیت (SPA)

سعودی عرب کی "فیوچر انویسٹمنٹ انیشیٹو فاؤنڈیشن" نے اعلان کیا ہے کہ اس کی ساتویں باضابطہ سالانہ کانفرنس 24 سے 26 اکتوبر تک دارالحکومت ریاض میں "نیو کمپاس" کے عنوان سے منعقد ہوگی، جس میں حالیہ بحرانوں میں عالمی مکالموں کے اثرات پر روشنی ڈالی جائے گی۔

کانفرنس کا ساتواں ایڈیشن اپنی نوعیت کی پہلی بار سالانہ رکنیت کے نظام کے ساتھ منعقد کیا جائے گا۔ چنانچہ اس کانفرنس کے خاص سربراہی اجلاسوں اور سرگرمیوں میں شرکت صرف رکنیت کے حامل افراد، اسٹریٹجک شراکت داروں اور ان کے مہمانوں، فیصلہ سازوں اور بین الاقوامی رہنماؤں کی ایک بڑی تعداد تک محدود ہوگی۔

"فیوچر انویسٹمنٹ انیشیٹو" کے سی ای او رچرڈ اٹیس نے کہا: کانفرنس کا مرکزی موضوع "اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ (کمپاس) ایک علامت کے طور پر ہمارے دور میں پہلے سے کہیں زیادہ مطلوبہ ہدف کی نمائندگی اور رہنمائی کرتا ہے۔" انہوں نے زور دیا کہ "فاؤنڈیشن کی کمیونٹی کے لیے ضروری ہے کہ وہ نیویگیشن اور انسپائریشن کے لیے ایک نئے کمپاس کو دوبارہ ڈیزائن کرنے کے لیے اکٹھے ہوں۔"

توقع کی جا رہی ہے کہ اس سال کی کانفرنس میں متعدد موضوعات پر500 مقررین گفتگو کریں گے اور اس میں 5 ہزار مہمان شریک ہوں گے، اور گفتگو میں ذاتی آراء پر انحصار کرنے کی بجائے مزید موضوعات کو شامل کیا جائے گا۔(...)

جمعہ-09 صفر 1445ہجری، 25 اگست 2023، شمارہ نمبر[16341]



وزارت برائے انسانی وسائل نے 160 ممالک میں غیر ملکی افرادی قوت کے لیے "پیشہ ورانہ تصدیق" کے نفاذ کا آغاز کر دیا ہے

وزارت برائے انسانی وسائل نے 160 ممالک میں غیر ملکی افرادی قوت کے لیے "پیشہ ورانہ تصدیق" کے نفاذ کا آغاز کر دیا ہے
TT

وزارت برائے انسانی وسائل نے 160 ممالک میں غیر ملکی افرادی قوت کے لیے "پیشہ ورانہ تصدیق" کے نفاذ کا آغاز کر دیا ہے

وزارت برائے انسانی وسائل نے 160 ممالک میں غیر ملکی افرادی قوت کے لیے "پیشہ ورانہ تصدیق" کے نفاذ کا آغاز کر دیا ہے

"پروفیشنل ایکریڈیٹیشن" پروگرام کے تحت وزارت برائے انسانی وسائل اور سماجی ترقی نے ان تمام منتخب کردہ ممالک کا احاطہ مکمل کر لیا ہے جو پروفیشنل ویریفکیشن کے ذریعے مزدور برآمد کرتے ہیں۔ واضح رہے کہ اس اقدام کا مقصد غیر ملکی افرادی قوت کی مہارتوں کے میعار کو بہتر بنانا ہے۔ یہ ہدف وزارت خارجہ کے تعاون سے 160 ممالک میں مکمل کر لیا گیا۔

یہ سروس کابینہ کی قرارداد نمبر 195 کے مطابق ہے جس کا مقصد اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ مملکت میں داخل ہونے سے پہلے تارکین وطن افراد کے پاس سعودی لیبر مارکیٹ کے عین مطابق قابل اعتماد تعلیمی قابلیت، عملی تجربہ اور اپنے پیشے میں مہارت ہو۔

"پیشہ ورانہ تصدیق" سروس کی مرکزی توجہ افرادی قوت کی متعلقہ شعبے میں میعاری تعلیمی قابلیت اور انتہائی ہنر مند پیشوں میں مہارت ہے۔ واضح رہے کہ یہ عمل سعودی عرب کے منظور شدہ درجہ بندی معیار کے مطابق کیا جاتا ہے جیسے کہ سعودی یونیفائیڈ کلاسیفیکیشن آف پروفیشنز اور سعودی یونیفائیڈ کلاسیفیکیشن آف ایجوکیشن لیولز اینڈ سپیشلائیزیشنز ۔ یہ سروس مکمل طور پر خودکار ہے اور یہ آسان اور تیز رفتار طریقہ کار کے ساتھ ایک مرکزی پلیٹ فارم کے ذریعے پیشہ ورانہ تصدیق کے لیے فراہم کی جاتی ہے۔

"پیشہ ورانہ تصدیق" کے نفاذ کے دوران وزارت برائے انسانی وسائل نے 1,007 پیشوں کا احاطہ مکمل کیا جس میں دنیا بھر سے تمام مزدور برآمد کرنے والے ممالک شامل ہیں ۔ وزارت متعلقہ حکام کے ساتھ مل کر انتہائی ہنر مند پیشوں کو شامل کرنے کا کام جاری رکھے گی جو سعودی یونیفائیڈ کلاسیفکیشن کے مطابق گروپ 1-3 میں آتے ہیں۔ ان پیشوں میں انجنیئرنگ، صحت سے منسلک شعبے بھی شامل ہیں۔

یہ بات قابل توجہ ہے کہ وزارت برائے انسانی وسائل اور سماجی ترقی کا مقصد اس سروس کے ذریعے لیبر مارکیٹ کو ریگولیٹ کرنا، لیبر مارکیٹ میں ملازمتوں اور سروسز کو بہتر بنانا اور پیداوار کے معیار کو بڑھانا ہے۔