زیرو نیوٹرلٹی پر بین الاقوامی توانائی ایجنسی کی رپورٹ میں غلطیاں اور من گھڑت باتیں: تجزیہ کاروں كا بيان

بین الاقوامی توانائی ایجنسی نے حالات کے ایسے عوامل پر انحصار کیا جو غير ضروری اور قابل تبدیل ہیں (تصویر رائٹرز)
بین الاقوامی توانائی ایجنسی نے حالات کے ایسے عوامل پر انحصار کیا جو غير ضروری اور قابل تبدیل ہیں (تصویر رائٹرز)
TT

زیرو نیوٹرلٹی پر بین الاقوامی توانائی ایجنسی کی رپورٹ میں غلطیاں اور من گھڑت باتیں: تجزیہ کاروں كا بيان

بین الاقوامی توانائی ایجنسی نے حالات کے ایسے عوامل پر انحصار کیا جو غير ضروری اور قابل تبدیل ہیں (تصویر رائٹرز)
بین الاقوامی توانائی ایجنسی نے حالات کے ایسے عوامل پر انحصار کیا جو غير ضروری اور قابل تبدیل ہیں (تصویر رائٹرز)

بین الاقوامی توانائی ایجنسی کی رپورٹ پر اس شعبہ کے لوگوں کی طرف سے تنقید کا سلسلہ جاری ہے، جس میں "2050 تک زیرو نیوٹرلٹی: گلوبل انرجی سیکٹر کے لیے روڈ میپ" کے حوالے سے بات کی گئی تھی۔ جب کہ يہ تنقید ایک ایسے وقت میں ہے کہ جب انرجی پالیسی ریسرچ کارپوریشن کے تفصیلی تجزیے نے ایجنسی کے مفروضوں کی غلطی کا انکشاف کیا اور ماحولیاتی، اقتصادی، سیاسی اور ترقیاتی نتائج اور اخراجات کو ظاہر کیا جو جلد بازی اور غير جائزه شدہ رپورٹ کے نتیجے میں سامنے آئے تهے۔

دنیا کے حالیہ تجربات اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ 2050 تک توانائی کے نظام میں صفر غیر جانبداری تک پہنچنا اگر یہ ممکن ہوا تو ایسی صورت میں یہ توانائی مستحکم، قابل اعتماد اور مناسب قیمتوں پر فراہم کرنے کی ضمانت پر ہونی چاہیے۔

یہ وہ چیز ہے جس پر سعودی عرب توجہ مرکوز کر رہا ہے، جو کہ نقصان دہ فضلے کے اخراج کو کم کر کے ماحولیاتی تحفظ، اس کی پائیداری اور موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کا مقابلہ کرنے کے مسائل سے متعلق توانائی کے اہداف کو ترجیح دینے کے ضمن میں ہے۔ (...)

پير-11 صفر 1445ہجری، 28 اگست 2023، شمارہ نمبر[16344]



وزارت برائے انسانی وسائل نے 160 ممالک میں غیر ملکی افرادی قوت کے لیے "پیشہ ورانہ تصدیق" کے نفاذ کا آغاز کر دیا ہے

وزارت برائے انسانی وسائل نے 160 ممالک میں غیر ملکی افرادی قوت کے لیے "پیشہ ورانہ تصدیق" کے نفاذ کا آغاز کر دیا ہے
TT

وزارت برائے انسانی وسائل نے 160 ممالک میں غیر ملکی افرادی قوت کے لیے "پیشہ ورانہ تصدیق" کے نفاذ کا آغاز کر دیا ہے

وزارت برائے انسانی وسائل نے 160 ممالک میں غیر ملکی افرادی قوت کے لیے "پیشہ ورانہ تصدیق" کے نفاذ کا آغاز کر دیا ہے

"پروفیشنل ایکریڈیٹیشن" پروگرام کے تحت وزارت برائے انسانی وسائل اور سماجی ترقی نے ان تمام منتخب کردہ ممالک کا احاطہ مکمل کر لیا ہے جو پروفیشنل ویریفکیشن کے ذریعے مزدور برآمد کرتے ہیں۔ واضح رہے کہ اس اقدام کا مقصد غیر ملکی افرادی قوت کی مہارتوں کے میعار کو بہتر بنانا ہے۔ یہ ہدف وزارت خارجہ کے تعاون سے 160 ممالک میں مکمل کر لیا گیا۔

یہ سروس کابینہ کی قرارداد نمبر 195 کے مطابق ہے جس کا مقصد اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ مملکت میں داخل ہونے سے پہلے تارکین وطن افراد کے پاس سعودی لیبر مارکیٹ کے عین مطابق قابل اعتماد تعلیمی قابلیت، عملی تجربہ اور اپنے پیشے میں مہارت ہو۔

"پیشہ ورانہ تصدیق" سروس کی مرکزی توجہ افرادی قوت کی متعلقہ شعبے میں میعاری تعلیمی قابلیت اور انتہائی ہنر مند پیشوں میں مہارت ہے۔ واضح رہے کہ یہ عمل سعودی عرب کے منظور شدہ درجہ بندی معیار کے مطابق کیا جاتا ہے جیسے کہ سعودی یونیفائیڈ کلاسیفیکیشن آف پروفیشنز اور سعودی یونیفائیڈ کلاسیفیکیشن آف ایجوکیشن لیولز اینڈ سپیشلائیزیشنز ۔ یہ سروس مکمل طور پر خودکار ہے اور یہ آسان اور تیز رفتار طریقہ کار کے ساتھ ایک مرکزی پلیٹ فارم کے ذریعے پیشہ ورانہ تصدیق کے لیے فراہم کی جاتی ہے۔

"پیشہ ورانہ تصدیق" کے نفاذ کے دوران وزارت برائے انسانی وسائل نے 1,007 پیشوں کا احاطہ مکمل کیا جس میں دنیا بھر سے تمام مزدور برآمد کرنے والے ممالک شامل ہیں ۔ وزارت متعلقہ حکام کے ساتھ مل کر انتہائی ہنر مند پیشوں کو شامل کرنے کا کام جاری رکھے گی جو سعودی یونیفائیڈ کلاسیفکیشن کے مطابق گروپ 1-3 میں آتے ہیں۔ ان پیشوں میں انجنیئرنگ، صحت سے منسلک شعبے بھی شامل ہیں۔

یہ بات قابل توجہ ہے کہ وزارت برائے انسانی وسائل اور سماجی ترقی کا مقصد اس سروس کے ذریعے لیبر مارکیٹ کو ریگولیٹ کرنا، لیبر مارکیٹ میں ملازمتوں اور سروسز کو بہتر بنانا اور پیداوار کے معیار کو بڑھانا ہے۔