آئی ایم ایف کا مراکش کو ماحولیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے 1.3 بلین ڈالر کا قرض دینے کا اعلان

بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کا واشنگٹن میں صدر دفتر (رائٹرز)
بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کا واشنگٹن میں صدر دفتر (رائٹرز)
TT

آئی ایم ایف کا مراکش کو ماحولیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے 1.3 بلین ڈالر کا قرض دینے کا اعلان

بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کا واشنگٹن میں صدر دفتر (رائٹرز)
بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کا واشنگٹن میں صدر دفتر (رائٹرز)

کل جمعرات کے روز بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے مراکش کو 1.3 بلین ڈالر کا قرض دینے کا اعلان کیا تاکہ مملکت مراکش کو ماحولیاتی تبدیلیوں کا مقابلہ کرنے اور قدرتی و موسمیاتی آفات سے نمٹنے کے لیے اپنی صلاحیتوں کو بڑھانے کے لیےمالی اعانت کی جا سکے۔

خیال رہے کہ 18 ماہ کی مدت پر محیط اس قرض کا اعلان، مراکش میں تباہ کن زلزلے کے ایک ماہ بعد کیا جا رہا ہے۔ ادارے کے ایک بیان کے مطابق، یہ قرض آئی ایم ایف کی لچک اور پائیداری کی سہولت کے فریم ورک میں بورڈ آف ڈائریکٹرز نے منظوری کے ساتھ ہے، جو ایک بلین یونٹ کے کیش آؤٹ کے خصوصی حقوق کے برابر ہے (یہ یونٹ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے اکاؤنٹ کی اکائی ہے جو پانچ بڑی کرنسیوں کی ایک ٹوکری کے برابر ہے)۔

جب کہ اس قرض کا مقصد "مراکش کو آب و ہوا سے نمٹنے کے لیے اپنی کمزوریوں کو دور کرنے کے قابل بنانا، موسمیاتی تبدیلیوں کا مقابلہ کرنے کے لیے اسے مدد فراہم کرنا اور اپنی معیشت کو ڈیکاربونائز کرنے کے مواقع سے فائدہ اٹھانے" کے قابل بنانا ہے۔ فنڈ نے مزید کہا کہ یہ قرض "مراکش کے حکام کو قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے اپنی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے اور پائیدار ترقی کے لیے مالی اعانت کی حوصلہ افزائی کرنے میں بھی مدد دے گا۔" (...)

جمعہ-14 ربیع الاول 1445ہجری، 29 ستمبر 2023، شمارہ نمبر[16376]



وزارت برائے انسانی وسائل نے 160 ممالک میں غیر ملکی افرادی قوت کے لیے "پیشہ ورانہ تصدیق" کے نفاذ کا آغاز کر دیا ہے

وزارت برائے انسانی وسائل نے 160 ممالک میں غیر ملکی افرادی قوت کے لیے "پیشہ ورانہ تصدیق" کے نفاذ کا آغاز کر دیا ہے
TT

وزارت برائے انسانی وسائل نے 160 ممالک میں غیر ملکی افرادی قوت کے لیے "پیشہ ورانہ تصدیق" کے نفاذ کا آغاز کر دیا ہے

وزارت برائے انسانی وسائل نے 160 ممالک میں غیر ملکی افرادی قوت کے لیے "پیشہ ورانہ تصدیق" کے نفاذ کا آغاز کر دیا ہے

"پروفیشنل ایکریڈیٹیشن" پروگرام کے تحت وزارت برائے انسانی وسائل اور سماجی ترقی نے ان تمام منتخب کردہ ممالک کا احاطہ مکمل کر لیا ہے جو پروفیشنل ویریفکیشن کے ذریعے مزدور برآمد کرتے ہیں۔ واضح رہے کہ اس اقدام کا مقصد غیر ملکی افرادی قوت کی مہارتوں کے میعار کو بہتر بنانا ہے۔ یہ ہدف وزارت خارجہ کے تعاون سے 160 ممالک میں مکمل کر لیا گیا۔

یہ سروس کابینہ کی قرارداد نمبر 195 کے مطابق ہے جس کا مقصد اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ مملکت میں داخل ہونے سے پہلے تارکین وطن افراد کے پاس سعودی لیبر مارکیٹ کے عین مطابق قابل اعتماد تعلیمی قابلیت، عملی تجربہ اور اپنے پیشے میں مہارت ہو۔

"پیشہ ورانہ تصدیق" سروس کی مرکزی توجہ افرادی قوت کی متعلقہ شعبے میں میعاری تعلیمی قابلیت اور انتہائی ہنر مند پیشوں میں مہارت ہے۔ واضح رہے کہ یہ عمل سعودی عرب کے منظور شدہ درجہ بندی معیار کے مطابق کیا جاتا ہے جیسے کہ سعودی یونیفائیڈ کلاسیفیکیشن آف پروفیشنز اور سعودی یونیفائیڈ کلاسیفیکیشن آف ایجوکیشن لیولز اینڈ سپیشلائیزیشنز ۔ یہ سروس مکمل طور پر خودکار ہے اور یہ آسان اور تیز رفتار طریقہ کار کے ساتھ ایک مرکزی پلیٹ فارم کے ذریعے پیشہ ورانہ تصدیق کے لیے فراہم کی جاتی ہے۔

"پیشہ ورانہ تصدیق" کے نفاذ کے دوران وزارت برائے انسانی وسائل نے 1,007 پیشوں کا احاطہ مکمل کیا جس میں دنیا بھر سے تمام مزدور برآمد کرنے والے ممالک شامل ہیں ۔ وزارت متعلقہ حکام کے ساتھ مل کر انتہائی ہنر مند پیشوں کو شامل کرنے کا کام جاری رکھے گی جو سعودی یونیفائیڈ کلاسیفکیشن کے مطابق گروپ 1-3 میں آتے ہیں۔ ان پیشوں میں انجنیئرنگ، صحت سے منسلک شعبے بھی شامل ہیں۔

یہ بات قابل توجہ ہے کہ وزارت برائے انسانی وسائل اور سماجی ترقی کا مقصد اس سروس کے ذریعے لیبر مارکیٹ کو ریگولیٹ کرنا، لیبر مارکیٹ میں ملازمتوں اور سروسز کو بہتر بنانا اور پیداوار کے معیار کو بڑھانا ہے۔