سعودی - پرتگالی تجارتی تبادلے کا حجم ایک ارب ڈالر تک پہنچ گیا

مملکت میں 7.2 ٹریلین ڈالر سے زائد کے بنیادی ڈھانچے کے منصوبے ہیں: وزیر اقتصادیات

سعودی پرتگالی کمیٹی کے اجلاس کے چھٹے راؤنڈ کا منظر (الشرق الاوسط)
سعودی پرتگالی کمیٹی کے اجلاس کے چھٹے راؤنڈ کا منظر (الشرق الاوسط)
TT

سعودی - پرتگالی تجارتی تبادلے کا حجم ایک ارب ڈالر تک پہنچ گیا

سعودی پرتگالی کمیٹی کے اجلاس کے چھٹے راؤنڈ کا منظر (الشرق الاوسط)
سعودی پرتگالی کمیٹی کے اجلاس کے چھٹے راؤنڈ کا منظر (الشرق الاوسط)

سعودی وزیر اقتصاد و منصوبہ بندی فیصل الابراہیم نے انکشاف کیا ہے کہ سعودی عرب سے پرتگال کی جانب برآمدات میں 50 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا اور جبکہ لزبن سے درآمدات میں تقریباً 40 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

الابراہیم نے سعودی-پرتگالی سرمایہ کاری فورم میں اپنی شرکت کے دوران دونوں ممالک کے درمیان تجارتی تبادلے کے حجم میں ہونے والی پیش رفت جو واضح کیا جو ایک ارب ڈالر تک پہنچ چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بے مثال عالمی چیلنجوں اور خاص طور پر موسمیاتی، پائیداری اور وبائی امراض کے بعد اقتصادی بحالی کے امور سے متعلق جدید حل کی ضرورت ہے۔

سعودی وزیر نے اس بات پر زور دیا کہ دونوں ممالک میں سرکاری اور نجی شعبوں کے مابین تعاون پر مبنی کاوشیں عالمی چیلنجوں میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ سعودی-پرتگالی کمیٹی کا چھٹا اجلاس ایک ایسے وقت میں منعقد ہو رہا ہے کہ جب 2021 سے گزشتہ سال تک دو طرفہ تجارت میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ "وژن 2030" متعدد اقتصادی اہداف، جیسے کہ اقتصادی تنوع، پائیداری اور جامع ترقی کے عزم میں پرتگال کو آپس میں جوڑتا ہے۔

مملکت میں 7.2 ٹریلین ڈالر سے زیادہ مالیت کے بنیادی ڈھانچوں کے منصوبے مشترکہ تعاون کے لیے بہترین مواقع تشکیل دیتے ہیں، کیونکہ مستقبل کے شہر جیسے کہ "نیوم"، پرتگالی سرمایہ کاروں کے لیے پرکشش مواقع فراہم کرتے ہیں۔(...)

بدھ-19ربیع الاول 1445ہجری، 04 اکتوبر 2023، شمارہ نمبر[16381]



وزارت برائے انسانی وسائل نے 160 ممالک میں غیر ملکی افرادی قوت کے لیے "پیشہ ورانہ تصدیق" کے نفاذ کا آغاز کر دیا ہے

وزارت برائے انسانی وسائل نے 160 ممالک میں غیر ملکی افرادی قوت کے لیے "پیشہ ورانہ تصدیق" کے نفاذ کا آغاز کر دیا ہے
TT

وزارت برائے انسانی وسائل نے 160 ممالک میں غیر ملکی افرادی قوت کے لیے "پیشہ ورانہ تصدیق" کے نفاذ کا آغاز کر دیا ہے

وزارت برائے انسانی وسائل نے 160 ممالک میں غیر ملکی افرادی قوت کے لیے "پیشہ ورانہ تصدیق" کے نفاذ کا آغاز کر دیا ہے

"پروفیشنل ایکریڈیٹیشن" پروگرام کے تحت وزارت برائے انسانی وسائل اور سماجی ترقی نے ان تمام منتخب کردہ ممالک کا احاطہ مکمل کر لیا ہے جو پروفیشنل ویریفکیشن کے ذریعے مزدور برآمد کرتے ہیں۔ واضح رہے کہ اس اقدام کا مقصد غیر ملکی افرادی قوت کی مہارتوں کے میعار کو بہتر بنانا ہے۔ یہ ہدف وزارت خارجہ کے تعاون سے 160 ممالک میں مکمل کر لیا گیا۔

یہ سروس کابینہ کی قرارداد نمبر 195 کے مطابق ہے جس کا مقصد اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ مملکت میں داخل ہونے سے پہلے تارکین وطن افراد کے پاس سعودی لیبر مارکیٹ کے عین مطابق قابل اعتماد تعلیمی قابلیت، عملی تجربہ اور اپنے پیشے میں مہارت ہو۔

"پیشہ ورانہ تصدیق" سروس کی مرکزی توجہ افرادی قوت کی متعلقہ شعبے میں میعاری تعلیمی قابلیت اور انتہائی ہنر مند پیشوں میں مہارت ہے۔ واضح رہے کہ یہ عمل سعودی عرب کے منظور شدہ درجہ بندی معیار کے مطابق کیا جاتا ہے جیسے کہ سعودی یونیفائیڈ کلاسیفیکیشن آف پروفیشنز اور سعودی یونیفائیڈ کلاسیفیکیشن آف ایجوکیشن لیولز اینڈ سپیشلائیزیشنز ۔ یہ سروس مکمل طور پر خودکار ہے اور یہ آسان اور تیز رفتار طریقہ کار کے ساتھ ایک مرکزی پلیٹ فارم کے ذریعے پیشہ ورانہ تصدیق کے لیے فراہم کی جاتی ہے۔

"پیشہ ورانہ تصدیق" کے نفاذ کے دوران وزارت برائے انسانی وسائل نے 1,007 پیشوں کا احاطہ مکمل کیا جس میں دنیا بھر سے تمام مزدور برآمد کرنے والے ممالک شامل ہیں ۔ وزارت متعلقہ حکام کے ساتھ مل کر انتہائی ہنر مند پیشوں کو شامل کرنے کا کام جاری رکھے گی جو سعودی یونیفائیڈ کلاسیفکیشن کے مطابق گروپ 1-3 میں آتے ہیں۔ ان پیشوں میں انجنیئرنگ، صحت سے منسلک شعبے بھی شامل ہیں۔

یہ بات قابل توجہ ہے کہ وزارت برائے انسانی وسائل اور سماجی ترقی کا مقصد اس سروس کے ذریعے لیبر مارکیٹ کو ریگولیٹ کرنا، لیبر مارکیٹ میں ملازمتوں اور سروسز کو بہتر بنانا اور پیداوار کے معیار کو بڑھانا ہے۔