خادم حرمین شریفین نے اس بات پر زور دیا کہ اس مشترکہ عرب اور اسلامی کاروائی کی حمایت کرنے میں سعودی عرب کا اہم مقام ہے جو اس کی خارجہ پالیسی میں ایک مضبوط پوزیشن اور لازمی اساس کی حیثیت سے ہے۔
خادم حرمین شریفین نے نشاندہی کی کہ بقیق اور خریص میں تیل کی کمپنیوں پر ہونے والے تخریب کار ان حملوں سے جن میں ایرانی ہتھیاروں کا استعمال کیا گیا ہے ثابت ہوتا ہے کہ ایرانی حکومت مایوسی کی سطح پر پہنچ چکی ہے اور اسی چیز نے اس مجرمانہ جارحیت کا مقابلہ کرنے کے لئے ساری دنیا کو متحد کردیا ہے اور شاہ سلمان نے کہا کہ سعودی عرب جنگ کا خواہاں نہیں ہے کیونکہ اس کا وہ ہاتھ جو ہمیشہ امن کے لئے بڑھتا ہے کسی کو نقصان پہنچانے سے پرے ہے لیکن وہ کسی بھی جارحیت کے خلاف مضبوطی سے اپنے عوام کا دفاع کرنے کے لئے تیار ہے۔(۔۔۔)
جمعرات 24 ربیع الاول 1441 ہجرى - 21 نومبر 2019ء شماره نمبر [14968]