سعودی وزیر خارجہ نے میونخ میں سیکیورٹی کانفرنس کے دوران ایک مباحثے کے اجلاس میں کہا کہ خطے میں خطرہ اور تناؤ اب بھی موجود ہے لیکن انہوں نے اس بات کی طرف بھی اشارہ کیا کہ سعودی عرب ایران کے ساتھ کشیدگی نہیں چاہتا ہے اور انہوں نے ایران کے ساتھ براہ راست بات چیت کے وجود کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ عدم استحکام کی وجوہات اور اس کے منبع کے سلسلہ میں اتفاق کرنے سے قبل سے بات چیت کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔
یمن کے بارے میں شہزادہ فیصل نے کہا کہ ایران کی طرف سے تیل کے کنویں پر ہونے والے حملے اور حوثیوں کی طرف سے اس کا اقرار کرنے کے بعد حوثیوں نے محسوس کیا کہ وہ اتحادی نہیں ہین بلکہ وہ ایران کے ہاتھوں میں ایک آلہ ہیں اور ہم ان کے ساتھ اسی وقت بات چیت شروع کر دی ہے اور حالیہ کشیدگی کے باوجود بات چیت ابھی بھی جاری ہے۔(۔۔۔)
اتوار 22 جمادی الآخر 1441 ہجرى - 16 فروری 2020ء شماره نمبر [15055]