شمال مغربی شام میں "خون خرابہ" کے خلاف بین الاقوامی انتباہ

کل شام ترکی کی سرحد کے قریب حلب گورنریٹ کے دیہی علاقوں میں واقع عفرین کے اندر دير البلوط کیمپ کی ایک مسجد میں شامی بے گھر افراد کو دیکھا جا سکتا ہے (اے ایف پی)
کل شام ترکی کی سرحد کے قریب حلب گورنریٹ کے دیہی علاقوں میں واقع عفرین کے اندر دير البلوط کیمپ کی ایک مسجد میں شامی بے گھر افراد کو دیکھا جا سکتا ہے (اے ایف پی)
TT

شمال مغربی شام میں "خون خرابہ" کے خلاف بین الاقوامی انتباہ

کل شام ترکی کی سرحد کے قریب حلب گورنریٹ کے دیہی علاقوں میں واقع عفرین کے اندر دير البلوط کیمپ کی ایک مسجد میں شامی بے گھر افراد کو دیکھا جا سکتا ہے (اے ایف پی)
کل شام ترکی کی سرحد کے قریب حلب گورنریٹ کے دیہی علاقوں میں واقع عفرین کے اندر دير البلوط کیمپ کی ایک مسجد میں شامی بے گھر افراد کو دیکھا جا سکتا ہے (اے ایف پی)
ایک  طرف اقوام متحدہ کی جانب سے گزشتہ روز شمال مغربی شام میں "خون خرابے" کے بارے میں ایک انتباہ دیا گیا ہے تود وسری طرف روسی صدر ولادیمیر پوتن اور ترک رجب طیب اردوگان نے ادلب میں بگڑتے ہوئے ان حالات پر تبادلۂ خیال کرنے کے لئے فون کیا ہے جس کی وجہ سےحالیہ دنوں میں ماسکو اور انقرہ کے مابین کشیدگی پیدا ہو گئی تھی۔
جنیوا میں اقوام متحدہ کے دفتر برائے انسانی امور سے متعلق رابطہ کے ترجمان جینس لارکٹ نے ادلب میں لڑائیوں کی شدت اور ان کیمپوں میں تجاوزات کے بارے میں تشویش کا اظہار کیا جہاں بے گھر افراد اور ہمسایہ علاقے کے لوگوں نے پناہ لی ہے اور انہوں نے مزید مصائب کی روک تھام کے لئے فوری طور پر فائر بندی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ خون خرابے سے خوفزدہ ہیں۔
ہفتہ 28 جمادی الآخر 1441 ہجرى - 22 فروری 2020ء شماره نمبر [15061]


"ڈیووس" اپنے فورم کے دنوں میں ایک مضبوط قلعہ

اتوار کو ڈیووس میں یوکرین کے قومی سلامتی کے مشیروں کا ایک گروپ فوٹو (ای پی اے)
اتوار کو ڈیووس میں یوکرین کے قومی سلامتی کے مشیروں کا ایک گروپ فوٹو (ای پی اے)
TT

"ڈیووس" اپنے فورم کے دنوں میں ایک مضبوط قلعہ

اتوار کو ڈیووس میں یوکرین کے قومی سلامتی کے مشیروں کا ایک گروپ فوٹو (ای پی اے)
اتوار کو ڈیووس میں یوکرین کے قومی سلامتی کے مشیروں کا ایک گروپ فوٹو (ای پی اے)

ہر سال کی طرح "ورلڈ اکنامک فورم" نے اس سال بھی ممالک کی قیادتوں، حکومتوں کے رہنماؤں اور دنیا کے سینکڑوں امیر ترین لوگوں کو سوئس ریزورٹ ڈیووس میں اجلاس کی دعوت دی، جب کہ سیکیورٹی اور تنظیم کے امور سوئس وفاقی حکومت اور مقامی حکومتوں کے ساتھ تقسیم کر دیئے جاتے ہیں۔ سوئس حکومت نے اس سال سالانہ اجلاس کو محفوظ بنانے کی اضافی لاگت کا تخمینہ تقریباً 9 ملین سوئس فرانک لگایا، جو کہ 10.5 ملین ڈالر سے زیادہ کے برابر ہے، جب کہ 2022 اور 2024 کے درمیان حکومت کی طرف سے مقرر کردہ سالانہ بجٹ کے مطابق مسلح افواج کی تعیناتی کی لاگت 32 ملین سوئس فرانک ہے جو کہ 37.5 ملین ڈالر کے برابر ہے۔ سوئس حکومت کی ترجمان سوزان میسیکا نے "الشرق الاوسط" کو ایک بیان میں وضاحت کی کہ  سالانہ اجلاس کو محفوظ بنانے کے لیے فورسز کی تعیناتی کی لاگت انہی فورسز کے لیے معمول کی فوجی تربیت کے اخراجات کے برابر ہے۔

ڈیووس میں اور اس کے ارد گرد 5000 فوجی تعینات ہیں، اس کے علاوہ ایک بڑی تعداد میں سوئس سیکیورٹی اور پولیس اہلکار مختلف علاقوں میں تعینات ہیں۔(...)

منگل-04 رجب 1445ہجری، 16 جنوری 2024، شمارہ نمبر[16485]