امریکی ڈالر کی وجہ سے دمشق اور ادلب کے مصائب میں اضافہ

امریکی ڈالر کی وجہ سے دمشق اور ادلب کے مصائب میں اضافہ

ہفتہ, 16 May, 2020 - 17:15
وسطی دمشق میں ایک شخص کو اپنی سائکل لے کر سڑک عبور کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے (اے ایف پی)
دمشق - لندن: «الشرق الاوسط»
شامی پونڈ کے مقابلہ میں امریکی ڈالر کے زر مبادلہ کی شرح میں اضافہ ہونے کی وجہ سے دمشق کے ان عوام کے مصائب میں اضافہ ہو گیا ہے جو حکومت کے زیر اقتدار ہیں اور ادلب کے ان عوام کے مصائب میں بھی اضافہ ہو گیا ہے جو ترکی کے تعاون کردہ جماعتوں کے زیر اقتدار ہیں۔

کئی دہائیوں سے سب سے نمایاں اقتصادی ستون کے نام سے جانے والے رامی مخلوف اور دوسری جانب سے حکومت ان دونوں کے مابین ہونے والی کشیدگی کے سامنے آنے اور حکومت کی طرف سے 180 ملین ڈالر ادا کرنے کے مطالبہ کے بعد لیرا کی قیمت میں تقریبا 35 فیصد کی کمی آئی ہے کیونکہ ڈالر کے مقابلہ میں لیرہ کی قیمت 1200 سے 1600 ہو گئی ہے جبکہ سنہ 2011 میں اس کی قیمت 46 لیرہ تھی۔


معاشی ماہرین نے الشرق الاوسط سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا ہے کہ حکومت اور مخلوف کے مابین بحران ایک سال سے خاموشی کے ساتھ جاری تھا لیکن یہ بحران جلد ہی لوگوں کے سامنے آیا ہے اور ابھی حکومت کو ڈالر کی فوری ضرورت بھی ہے۔(۔۔۔)


ہفتہ 23 رمضان المبارک 1441 ہجرى - 16 مئی 2020ء شماره نمبر [15145]


انتخاباتِ مدير

ملٹی میڈیا