فلسطینی "معاہدوں کے حل" میں ہیں اور اقوام متحدہ کی طرف سے اسرائیل سے پیچھے ہٹنے کا مطالبہ

فلسطینی "معاہدوں کے حل" میں ہیں اور اقوام متحدہ کی طرف سے اسرائیل سے پیچھے ہٹنے کا مطالبہ

جمعرات, 21 May, 2020 - 13:30
پرسو رات فلسطین کے رہنماؤں کی کی ایک ملاقات میں عباس اور اشتیۃ کے درمیان باہمی گفتگو کے منظر کو دیکھا جا سکتا ہے (اے ایف پی)
رام اللہ: كفاح زبون ۔ نیو یارک: علی بردى
فلسطینی صدر محمود عباس کے اس اعلان کا انتظار ہے جس میں وہ اسرائیل اور امریکہ کے ساتھ تمام معاہدوں کو توڑ دینے کی بات کریں گے اور یہ معاہدے قابل عمل بھی نہیں ہوں گے۔

 
پرسو شام صدر عباس کی تقریر ختم ہوتے ہی فلسطین لبریشن آرگنائزیشن کی ایگزیکٹو کمیٹی کے سکریٹری صائب عريقات نے بیان کیا ہے کہ یہ فیصلہ عمل میں آچکا ہے اور اسی مؤقف کی تصدیق ممتاز عہدیداروں نے بھی کی ہے جن میں لبریشن آرگنائزیشن کی ایگزیکٹو کمیٹی کے ایک ممبر اور تحریک فتح کی سنٹرلائزیشن عزام الأحمد بھی شامل ہیں جن کا کہنا ہے کہ "اوسلو معاہدہ" اور اس کے سارے نتائج سکیورٹی کوآرڈینیشن اور پیرس معاہدے سمیت خبر بن چکے ہیں۔

 
یہ معلوم نہیں ہے کہ معاہدوں کو کس طرح توڑا جائے کیوں کہ حکومت اسرائیل سے پانی، بجلی اور ایندھن سمیت ہر چیز خریدتی ہے اور فلسطینیوں کے مفادات، نقل وحرکت اور سفر کی خدمت کے لئے اسے سلامتی اور شہری ہم آہنگی کی ضرورت ہے۔

 
ایک متعلقہ مسئلے پر اقوام متحدہ کے مشرق وسطی کے امن عمل کے خصوصی کوآرڈینیٹر نیکولائی مالڈینوف نے مشرق وسطی کے چوتھائی کے ممبروں سے اقوام متحدہ اور خطے کے ممالک کے ساتھ مل کر کام کرنے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ امن کے امکانات کو آگے بڑھایا جا سکے۔(۔۔۔)

 
جمعرات 28 رمضان المبارک 1441 ہجرى - 21 مئی 2020ء شماره نمبر [15150]

انتخاباتِ مدير

ملٹی میڈیا