بدران: ہم نے صدام کو کویت کے معاملے میں لاپرواہی نہ برتنے کا مشورہ دیا تھا

بدران: ہم نے صدام کو کویت کے معاملے میں لاپرواہی نہ برتنے کا مشورہ دیا تھا

اتوار, 16 August, 2020 - 12:30
شاہ حسین اور صدر حافظ الاسد کو مضر بدران کے ساتھ دیکھا جا سکتا ہے
اردن کے سابق وزیر اعظم مضر بدران نے عراق کے کویت پر حملہ کرنے سے قبل کے دنوں میں اپنے ملک کی چالوں اور صدام حسین کو اس سلسلے میں جو مشورے دیئے تھے ان کا انکشاف کیا ہے۔

ان دستاویزات میں جنہیں صرف الشرق الاوسط نے 3 حلقوں میں منفرد انداز سے اس مہینے کی 17 تاریخ کو "دی قرارداد" کے نام سے ایک کتاب میں شائع کیا ہے جس میں بدران کا کہنا ہے کہ ہم عراقیوں کے قریب تھے، ہم تھک چکے تھے اور ہم ان کو اس اہمیت پر قائل کرنے کی کوشش کر رہے تھے کہ معاملہ فوجی کاروائی تک نہ پہنچیں اور انہوں نے زور دے کر کہا کہ ہمیں صدام کے کویت پر حملہ کرنے کے ارادے یا اس واقعہ کی تاریخ کا کوئی علم نہیں تھا جس نے ہمارے خطے کی خصوصیات کو بدل کر رکھ دیا ہے۔(۔۔۔)


اتوار 26 ذی الحجہ 1441 ہجرى - 16 اگست 2020ء شماره نمبر [15237]


انتخاباتِ مدير

ملٹی میڈیا