تہران میں القاعدہ میں دوسرے شخص کا قتل

تہران میں القاعدہ میں دوسرے شخص کا قتل

اتوار, 15 November, 2020 - 14:45
تہران کے اندر گزشتہ اگست میں موٹرسائیکل پر سوار مسلح افراد نے القاعدہ کے ایک رہنما کو ہلاک کردیا ہے (ای پی اے)
ایک امریکی رپورٹ نے اس حقیقت پر ایک بار پھر روشنی ڈالی کہ ایران نے "القاعدہ" تنظیم کے سینئر رہنماؤں کو پناہ دی ہے جبکہ تہران ہمیشہ اس بات کی تردید کرتا رہا ہے اور نیویارک ٹائمز نے انٹیلیجنس حکام کے حوالے سے بتایا ہے کہ عبد اللہ احمد عبد اللہ کی ہلاکت کی تصدیق کی گئی ہے جس کا نام الحركي ابو محمد المصری ہے اور اسے "القاعدہ" کا دوسرا شخص سمجھا جاتا ہے اور ان کا قتل اس وقت ہوا جب 7 اگست کو ایرانی دارالحکومت کی ایک سڑک پر دو اسرائیلی ایجنٹوں نے اسے موٹرسائیکل سے گولی مار دی۔

ایرانی مہر ایجنسی نے واقعے کے وقت کہا ہے کہ مسلح افراد نے لبنانی تاریخ کے پروفیسر حبیب داؤد اور اس کی 27 سالہ بیٹی مریم کو گولی مار کر ہلاک کردیا ہے لیکن "نیویارک ٹائمز" نے انٹیلیجنس حکام کے حوالے سے بتایا ہے کہ مردہ شخص درحقیقت ابو محمد المصری تھا جس پر 1998 میں مشرقی افریقہ میں واقع امریکی سفارت خانوں کو نشانہ بنانے والے حملوں کی منصوبہ بندی میں حصہ لینے کا الزام لگایا گیا تھا اور اس کی بیٹی مریم بھی اس کے ساتھ ہی قتل کی گئی جو القاعدہ کے ایک رہنما کے بیٹے حمزہ بن لادن کی بیوہ تھی۔(۔۔۔)


اتوار 29 ربیع الاول 1442 ہجرى – 15 نومبر 2020ء شماره نمبر [15328]


انتخاباتِ مدير

ملٹی میڈیا