اقوام متحدہ کی طرف سے تگرائی میں "جنگی جرائم" کی تحقیقات پر دیا گیا زور

اقوام متحدہ کی طرف سے تگرائی میں "جنگی جرائم" کی تحقیقات پر دیا گیا زور

جمعہ, 5 March, 2021 - 15:00
تگرائی ریجن میں خواتین کو اس قتل عام کے متاثرین پر سوگ مناتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے جس کا الزام اریٹرین فورسز پر لگایا گیا ہے (اے ایف پی)
اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق مشیل بیچلیٹ نے گزشتہ روز ایتھوپیا کے تگرائی خطے میں ایک معروضی اور آزادانہ تحقیقات کے آغاز کا مطالبہ کیا ہے کیونکہ اس سے قبل سنگین خلاف ورزیوں کے واقعات کے ایسے ثبوت ملے ہیں جن سے انسانیت کے خلاف جنگی جرائم اور جرائم کی تشکیل ہو سکتی ہے۔

بیچلیٹ نے کہا ہے کہ اگر فوری، غیر جانبدارانہ اور شفاف تحقیقات نہیں کیا گیا اور ذمہ داروں کی جوابدہی کا مطالبہ بھی نہیں کیا گیا تو مجھے خدشہ ہے کہ خلاف ورزیوں کا سلسلہ جارے رہے گا اور وہ سزا سے بھی بچتے رہیں گے اور صورتحال طویل عرصے تک غیر مستحکم رہے گی جبکہ گواہ عصمت دری، لوٹ مار اور قتل عام سمیت مظالم کی بات کررہے ہیں لیکن جنگ کے فریق ایک دوسرے کو مورد الزام قرار دے رہے ہیں۔


ایتھوپیا کے وزیر اعظم آبی احمد کی حکومت اور تگرائی پیپلز لبریشن فرنٹ کی افواج کے مابین لڑائی کے نتیجے میں ہزاروں افراد ہلاک اور سیکڑوں ہزاروں افراد بے گھر ہوئے ہیں۔(۔۔۔)


 جمعہ 22 رجب 1442 ہجرى – 05 مارچ 2021ء شماره نمبر [15438]


انتخاباتِ مدير

ملٹی میڈیا