ٹگرائے کے جنگی جرائم نے ایتھوپیا اور اریٹیریا کا کیا محاصرہ

ٹگرائے کے جنگی جرائم نے ایتھوپیا اور اریٹیریا کا کیا محاصرہ

ہفتہ, 27 March, 2021 - 11:00
(اریٹرین) صدر آئسیاس افورکی کے ساتھ آبی احمد (دائیں) کو دیکھا جا سکتا ہے (اے ایف پی)
ایتھوپیا اور اریٹیریا کی فوجیں شمالی ایتھوپیا میں واقع ٹگرائے ​​خطے میں ان جنگی جرائم جن میں قتل وغارت اور عصمت دری بھی شامل ہیں کے الزامات سے گھری ہوئی ہیں۔

ادیس ابابا نے ٹگرائے پیپلز لبریشن فرنٹ کے ساتھ اس مسلح تصادم میں اریٹرین فوج کی کسی بھی طرح کی شمولیت سے ہمیشہ انکار کیا ہے جو پچھلے نومبر میں ہوا تھا لیکن ایتھوپیا کے وزیر اعظم آبی احمد نے منگل کے روز پہلی بار ٹگرائے میں اریٹرین فوج کی موجودگی کا اعتراف کیا ہے۔


اسی طرح اس ہفتہ آبی نے پہلی بار اعتراف کیا ہے کہ عصمت دری جیسے مظالم ہوئے ہیں اور کہا ہے کہ جن فوجیوں نے بھی جرم کیا ہے انہیں سزا دی جائے گی اور ٹگرائے میں موجود درجنوں گواہوں نے رائٹرز کو بتایا ہے کہ اریٹرین فوجیوں نے باقاعدگی سے شہریوں کو قتل کیا ہے اور اجتماعی عصمت دری کی ہے اور خواتین پر تشدد کیا اور گھروں اور فصلوں کو لوٹ لیا ہے۔(۔۔۔)


ہفتہ 14 شعبان المعظم 1442 ہجرى – 27 مارچ 2021ء شماره نمبر [15460]


انتخاباتِ مدير

ملٹی میڈیا