سلامتی کونسل غزہ پٹی کی صورتحال پر تبادلۂ خیال کرنے کے لئے کل ایک ہنگامی اجلاس کے دوران ان تینوں ممالک کے ذریعہ تجویز کردہ ایک بیان سامنے لانے کے سلسلہ میں ناکام ہو چکی ہے جنہوں نے اس اجلاس کے لئے دعوت دی ہے اور وہ تیونس، ناروے اور چین ہیں اور امریکہ نے کم از کم اس مرحلے پر بیان کے متن کو اپنانے سے گریز کیا ہے اور امریکی وفد بھیجنے سمیت تشدد کو روکنے کے لئے کی جانے والی کوششوں کا انتظار کیا ہے۔
اسی سلسلہ میں مشرق وسطی میں اقوام متحدہ کے خصوصی کوآرڈینیٹر ٹور ونسلینڈ نے متنبہ کیا ہے کہ غزہ میں صورتحال ایک جامع جنگ کی طرف جارہی ہے اور انہوں نے مزید کہا کہ ہر طرف کے رہنماؤں کو اس کشیدگی کو روکنے کی ذمہ داری لینی چاہئے۔
اسی سلسلہ میں مشرق وسطی میں اقوام متحدہ کے خصوصی کوآرڈینیٹر ٹور ونسلینڈ نے متنبہ کیا ہے کہ غزہ میں صورتحال ایک جامع جنگ کی طرف جارہی ہے اور انہوں نے مزید کہا کہ ہر طرف کے رہنماؤں کو اس کشیدگی کو روکنے کی ذمہ داری لینی چاہئے۔
امریکی صدر جو بائیڈن نے گزشتہ روز اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو سے فون پر گفتگو کرنے کے بعد اس شدت پسندی کے خاتمے کے فوری خاتمے کی امید ظاہر کی ہے اور انہوں نے وائٹ ہاؤس میں نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ میری توقع اور میری امید ہے کہ یہ کشیدگی بہت جلد ختم ہوجائے لیکن اسرائیل کو اپنا دفاع کرنے کا حق ہے۔(۔۔۔)
جمعرات 01 شوال المعظم 1442 ہجرى – 13 مئی 2021ء شماره نمبر [15507]