مغربی ممالک کی طرف سے سات سالوں کی نئی مدت کے لئے شام کے صدر بشار الاسد کی فتح کا استقبال انتخابات کی سالمیت کے بارے میں شکوک وشبہات سے کیا گیا ہے اور شام کی تعمیر نو میں محصہ لینے اور تعلقات کو معمول پر لانے کے سلسلہ میں شرائط کو یاد دلایا گیا ہے اور اس کے بالمقابل روسی صدر ولادیمیر پوتن کے ذریعہ اس انتخابات کے نتائج کو قانونی حیثیت دینے کے سلسلہ میں قائدانہ کردار ادا کیا گیا ہے اور ان کے بین الاقوامی اتحادیوں نے اسد کی کامیابی کا خیر مقدم کیا ہے اور عرب ممالک کی طرف سے مثبت خاموشی یا علی الاعلان مبارکبادیں دی گئیں ہیں۔
روس نے 2014 کے انتخابات میں قائدانہ کردار ادا نہیں کیا تھا جبکہ اس کے برعکس پرسو روز ہونے والے انتخابات کے بعد پوتن نے کوششوں میں برتری حاصل کی ہے اور اسد کو ان کی طرف سے ملنے والی مبارکبادی مغربی ممالک کے لئے ایک چیلنج ہے اور روس کے اتحادی ممالک یا امریکہ سے دشمنی رکھنے والے ممالک نے بیانات کے دروازے کھول دیئے ہیں جن میں کوریا کے صدر کیم جونگ ان ہیں جنہوں نے دشمن اور سامراجی قوتوں کے جارحانہ منصوبوں کو ناکام بنانے میں اسد کے کردار کی تعریف کی ہے۔(۔۔۔)
اتوار 18 شوال المعظم 1442 ہجرى – 30 مئی 2021ء شماره نمبر [15524]