کاظمی نے حشد کو سیستانی کی ہدایات کی یاد دلائی ہے

"پاپولر موبلائزیشن" کے ایک اہلکار کو پرسو روز بغداد میں اپنے صدر دفتر کی حفاظت کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے (اے ایف پی)
"پاپولر موبلائزیشن" کے ایک اہلکار کو پرسو روز بغداد میں اپنے صدر دفتر کی حفاظت کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے (اے ایف پی)
TT

کاظمی نے حشد کو سیستانی کی ہدایات کی یاد دلائی ہے

"پاپولر موبلائزیشن" کے ایک اہلکار کو پرسو روز بغداد میں اپنے صدر دفتر کی حفاظت کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے (اے ایف پی)
"پاپولر موبلائزیشن" کے ایک اہلکار کو پرسو روز بغداد میں اپنے صدر دفتر کی حفاظت کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے (اے ایف پی)
گزشتہ روز عراقی وزیر اعظم مصطفیٰ الکاظمی نے سپریم شیعہ اتھارٹی آیت اللہ علی السیستانی کی طرف سے غیرجانبدارانہ مقاصد کے لئے جاری کردہ کافی جہاد کے فتوے کو استحصال کرنے سے آگاہ کیا ہے اور اس سلسلہ میں جو بات کی گئی ہے اس کا حوالہ بھی دیا ہے۔

الکاظمی نے فتویٰ کے اجراء کی ساتویں برسی کے موقع پر ایک بیان میں کہا ہے کہ ان دنوں عراق بہت مشکل حالات سے گزرا ہے اور اس میں ملک کے مغربی خطے کے تقریبا 3 عراقی صوبوں کو داعش تنظیم کے ذریعہ اپنے قبضے میں کرنے کی طرف اشارہ ہے  جس نے اسے ایک سنگین وجود چیلینج کے سامنے لا کھڑا کیا تھا۔

الکاظمی نے مزید کہا ہے کہ الہی ثابت قدمی اور اعلی اتھارٹی جناب علی السیستانی کی طرف سے جاری کردہ فتویٰ اور ہدایات نے ایک دہشت گرد عفریت کو روکا ہے جس نے پوری دنیا کو خوف زدہ کردیا تھا اور اس نے اس عرصے کے دوران اس تنظیم کا خاتمہ کیا ہے جس کے بارے میں پوری دنیا تصور بھی نہیں کرسکتی ہے اور انہوں نے اس بات کی بھی وضاحت کی ہے کہ مغربی گورنریٹ پر داعش کا قبضہ ایسی غلط پالیسیوں کے نتیجے میں ہوا ہے جس نے ملک کو ان آفات میں ڈھکیل دیا ہے۔(۔۔۔)

منگل 05 ذی قعدہ 1442 ہجرى – 15 جون 2021ء شماره نمبر [15540]