روم کے اجلاس میں شریک ہونے والے مغربی عہدے داروں کے ذریعہ الشرق الاوسط کو دئے گئے بیان کے مطابق بلنکن کی روم کانفرنس میں شرکت کا اعلان امریکی صدر جو بائیڈن کی ٹیم کی طرف سے اقتدار سنبھالنے کے بعد اور شام کی حمایت کے لئے اس بین الاقوامی گروپ کے ختم ہونے کے بعد اٹھایا گیا سب سے بلند سیاسی اقدام تھا جو 2015 کے آخر میں ویانا عمل کے نتیجے میں سامنے آیا تھا اور اس طرح بلنکن نے اجلاس میں شریک وزراء کو شام میں امریکہ کی پالیسی کی ترجیحات اور مقاصد سے آگاہ کر دیا ہے اور وہ امداد کی فراہمی، داعش کے خاتمے پر توجہ مرکوز کرنا اور جنگ بندی پر مسلسل عمل درآمد کی ضرورت ہے۔(۔۔۔)
بدھ 20 ذی قعدہ 1442 ہجرى – 30 جون 2021ء شماره نمبر [15555]