شامی حکومت کی افواج کو ملک کے جنوب میں ایک ظالمانہ جنگ کا سامنا اس وقت کرنا پڑا ہے جب مخالف جنگجوؤں نے سیکیورٹی چوکیوں پر حملہ کیا اور فوج کے متعدد ارکان کو گرفتار کرلیا اور دوسری طرف درعا اور اس کے دیہی علاقوں میں محلوں کو میزائل اور اس چوتھے ڈویژن کے توپ خانے کو بمباری کا نشانہ بنایا گیا ہے جس کی نگرانی صدر بشار الاسد کے بھائی میجر جنرل ماہر کر رہے تھے۔
درعا کو حکومت کے خلاف دس سال قبل شروع ہونے والے عوامی مظاہروں کا گہوارہ سمجھا جاتا ہے اور اگرچہ حزب اختلاف کے کچھ دھڑوں نے 2018 میں فوجی آپریشن کے بعد روس کی سرپرستی میں دمشق کے ساتھ سمجھوتہ کے معاہدے پر دستخط کیا ہے لیکن یہ اب بھی واحد گورنریٹ ہے جہاں سے تمام مخالف جنگجو نہیں نکلے ہیں جبکہ حکومت نے ملک کے جنوب اور اردن کی سرحدوں کے قریب تک کے علاقوں پر اپنا کنٹرول کر لیا ہے۔(۔۔۔)
جمعہ 20 ذی الحجہ 1442 ہجرى – 30 جولائی 2021ء شماره نمبر [15585]