گزشتہ روز ایرانی صدر ابراہیم رئیسی نے آئینی حلف اٹھانے کے بعد ایرانی پارلیمنٹ سے اپنی پہلی تقریر میں اپنے غیر ملکی ایجنڈے کے بارے میں متضاد اشارے بھیجے ہیں اور انہوں نے کہا ہے کہ وہ ایران پر امریکی پابندیوں کو ہٹانے کے لیے تعمیری ڈیل کرنے اور کسی بھی سفارتی منصوبے کے ساتھ بات چیت کرنے کے لیے تیار ہیں اور ان کی اس گفتگو میں اس بات کا اشارہ ہے کہ وہ ویانا میں مذاکرات کی میز پر واپس آنا چاہتے ہیں جس کا چھٹا دور 20 جولائی کو الیکشن جیتنے کے ایک دن بعد روک دیا گیا تھا اور رئیسی نے غیر ملکی مداخلت کو مسترد کرتے ہوئے علاقائی بحرانوں کو اندرونی بات چیت کے ذریعے حل کرنے پر بھی زور دیا ہے اور یہ بھی کہا ہے کہ میں خطے کے تمام ممالک بالخصوص پڑوسیوں کے لیے دوستی اور بھائی چارے کا ہاتھ بڑھاتا ہوں۔
دوسری طرف رئیسی ایران کے علاقائی کردار کو جاری رکھنے کے لیے پرعزم دکھائی دئے ہیں اور اپنے ملک کو دنیا میں کہیں بھی انسانی حقوق کا محافظ سمجھا ہے اور انہوں نے ایرانی انقلاب کے دوسرے مرحلے کے ساتھ آگے بڑھنے کا وعدہ کیا ہے جو انقلاب برآمدی پالیسی کی حمایت کرتا ہے۔(۔۔۔)
جمعہ 27 ذی الحجہ 1442 ہجرى – 06 اگست 2021ء شماره نمبر [15592]