صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ کے اس ماہ کے آخر تک افغانستان سے شیڈول انخلا پر اصرار کے ساتھ ڈیموکریٹک صدر کی پالیسیوں پر ریپبلکن تنقید بڑھ گئی ہے اور سینیٹ کے اقلیتی رہنما مچ میک کونل نے کہا ہے کہ اگر صدر بائیڈن تیزی سے راستہ نہیں بدلتے ہیں تو طالبان ایک اہم فوجی فتح کی راہ پر گامزن ہوں گے اورمیک کونل نے کابل میں امریکی سفارت خانے سے امریکی ملازمین کو نکالنے اور انخلا کی حمایت کے لیے فوجی دستے بھیجنے کا عمل صرف کابل کے زوال کی تیاری ہے اور انہوں نے انتباہی لہجے میں مزید کہا کہ صدر بائیڈن کے فیصلوں نے ہمیں 1975 میں سیگون کے ذلت آمیز زوال سے بھی بدتر منظر کے سامنے رکھ دیا ہے۔(۔۔۔)
ہفتہ 05 محرم الحرام 1443 ہجرى – 14 اگست 2021ء شماره نمبر [15600]