پچھلے کچھ دنوں سے بین الاقوامی میدان میں سفارتی کشیدگی کے ایک سلسلے نے نئی سرد جنگ کو دوبارہ شروع کر دیا ہے جسے امریکہ نے روس اور چین کے بڑھتے ہوئے اثر ورسوخ کا سامنا کرنے کے لئے شروع کیا ہے اور واشنگٹن اور بیجنگ کے درمیان ایک نئی کشیدگی کے طور پر امریکی صدر جو بائیڈن نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ اگر چین نے اس جزیرے پر حملہ کیا تو ان کا ملک تائیوان کا عسکری دفاع کرے گا جسے چین اپنی سرزمین کا حصہ سمجھتا ہے۔
دوسری جانب چین نے کل مطالبہ کیا ہے کہ واشنگٹن تائیوان کے حوالے سے محتاط رہے اور وزارت خارجہ کے ترجمان وانگ وینبن نے کہا ہے کہ چین اپنے بنیادی مفادات سے متعلق مسائل پر کسی سمجھوتے کی اجازت نہیں دے گا اور انہوں نے آگاہ بھی کیا کہ واشنگٹن کو تائیوان کے معاملہ میں سنبھل کر معاملہ اور گفتگو کرنی چاہئے۔(۔۔۔)
ہفتہ- 17 ربیع الاول 1443 ہجری - 23 اكتوبر 2021ء شمارہ نمبر [15669]