تہران نے بائیڈن سے نیک نیتی کے اقدامات کا مطالبہ کیا ہےhttps://urdu.aawsat.com/home/article/3585576/%D8%AA%DB%81%D8%B1%D8%A7%D9%86-%D9%86%DB%92-%D8%A8%D8%A7%D8%A6%DB%8C%DA%88%D9%86-%D8%B3%DB%92-%D9%86%DB%8C%DA%A9-%D9%86%DB%8C%D8%AA%DB%8C-%DA%A9%DB%92-%D8%A7%D9%82%D8%AF%D8%A7%D9%85%D8%A7%D8%AA-%DA%A9%D8%A7-%D9%85%D8%B7%D8%A7%D9%84%D8%A8%DB%81-%DA%A9%DB%8C%D8%A7-%DB%81%DB%92
تہران نے بائیڈن سے نیک نیتی کے اقدامات کا مطالبہ کیا ہے
ایرانی وزارت خارجہ کی ویب سائٹ کی جانب سے کل تہران میں عبد اللہیان اور ان کی ٹیم کی ملاقات کی ایک تصویر شائع کی گئی ہے
لندن:«الشرق الأوسط»
تہران:«الشرق الأوسط»
TT
لندن:«الشرق الأوسط»
تہران:«الشرق الأوسط»
TT
تہران نے بائیڈن سے نیک نیتی کے اقدامات کا مطالبہ کیا ہے
ایرانی وزارت خارجہ کی ویب سائٹ کی جانب سے کل تہران میں عبد اللہیان اور ان کی ٹیم کی ملاقات کی ایک تصویر شائع کی گئی ہے
تہران نے امریکی صدر جو بائیڈن سے کہا ہے کہ وہ نیک نیتی کے اقدام کے طور پر اس پر عائد کچھ پابندیاں ہٹانے کے لیے ایگزیکٹو آرڈر جاری کریں لیکن بدلے میں امریکی فریق نے الزام لگایا ہے کہ وہ جوہری معاہدے کو بحال کرنے کے مقصد سے مذاکرات کے فریم ورک سے باہر مبالغہ آمیز مطالبات کر رہا ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ حسین امیر عبد اللہیان نے اچھے معاہدے تک پہنچنے کے لیے واشنگٹن کے ساتھ سفارت کاری کا دروازہ کھلا چھوڑ دیا ہے لیکن انھوں نے اس کے ساتھ براہ راست بات چیت کرنے اور سرخ لکیروں سے پیچھے ہٹنے سے انکار کیا ہے اور انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ امریکی براہ راست مذاکرات کرنے کی بات کرتے رہتے ہیں جس میں ہماری کوئی دلچسپی نہیں ہے اور ہم نے ابھی تک ان کی طرف سے مثبت رویہ بھی نہیں دیکھا ہے۔(۔۔۔)
مالی کا الجزائر پر دشمنانہ کاروائیاں کرنے اور اس کے معاملات میں مداخلت کرنے کا الزامhttps://urdu.aawsat.com/%D8%AE%D8%A8%D8%B1%D9%8A%DA%BA/4814066-%D9%85%D8%A7%D9%84%DB%8C-%DA%A9%D8%A7-%D8%A7%D9%84%D8%AC%D8%B2%D8%A7%D8%A6%D8%B1-%D9%BE%D8%B1-%D8%AF%D8%B4%D9%85%D9%86%D8%A7%D9%86%DB%81-%DA%A9%D8%A7%D8%B1%D9%88%D8%A7%D8%A6%DB%8C%D8%A7%DA%BA-%DA%A9%D8%B1%D9%86%DB%92-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%D8%A7%D8%B3-%DA%A9%DB%92-%D9%85%D8%B9%D8%A7%D9%85%D9%84%D8%A7%D8%AA-%D9%85%DB%8C%DA%BA-%D9%85%D8%AF%D8%A7%D8%AE%D9%84%D8%AA-%DA%A9%D8%B1%D9%86%DB%92-%DA%A9%D8%A7-%D8%A7%D9%84%D8%B2%D8%A7%D9%85
مالی کا الجزائر پر دشمنانہ کاروائیاں کرنے اور اس کے معاملات میں مداخلت کرنے کا الزام
مالی کے فوجی حکمران کرنل عاصیمی گوئٹا (ایکس پلیٹ فارم پر مالی پریذیڈنسی اکاؤنٹ)
کل جمعرات کے روز افریقی ملک مالی کی حکمران عسکری کمیٹی نے الجزائر پر دشمنانہ کاروائیاں کرنے اور ملک کے اندرونی معاملات میں مداخلت کرنے کا الزام عائد کیا۔
"روئٹرز" کے مطابق، عسکری کمیٹی نے اعلان کیا ہے کہ اس نے علیحدگی پسندوں کے ساتھ 2015 کا الجزائر امن معاہدہ فوری طور پر ختم کر دیا ہے۔ الجزائر کی حکومت کے قریبی ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ وہ باماکو کے فوجی حکمران کرنل عاصیمی گوئٹا کے روس کی ملیشیا "وگنر" کے ساتھ اتحاد سے پریشان ہے۔ گزشتہ نومبر میں مالی میں ملیشیا کی طرف سے تکنیکی اور لاجسٹک مدد سے شروع کیے گئے ایک اچانک حملے میں مالی کی افواج نے کیدال شہر پر قبضہ کر لیا تھا، جب کہ کیدال، شمال میں ایک الگ ریاست کے قیام کا مطالبہ کرنے والی مسلح اپوزیشن کا ایک اہم گڑھ شمار ہوتا ہے۔
انہی ذرائع کے مطابق، الجزائر اس پیش رفت کو مالی میں تنازعے کے دونوں فریقوں کے مابین 2015 میں اپنی سرزمین پر دستخط کیے گئے "امن معاہدے کی خلاف ورزی" شمار کرتا ہے۔ اسی طرح اپوزیشن کے شہروں پر کرنل گوئٹا کی پیش قدمی اور جدید فوجی آلات کا استعمال کرتے ہوئے اپنی فوجی مہم کے دوران اسے "ویگنر" کے زیر کنٹرول دینے کو بین الاقوامی ثالثی کی کوششوں کو کمزور کرنا شمار کرتا ہے، اور خیال رہے کہ الجزائر اس ثالثی کا سربراہ ہے۔
اس مہینے کے آغاز میں کرنل گوئٹا نے اندرونی تصفیہ کے عمل کے حوالے سے بیانات دیئے، جس سے یہ سمجھا گیا کہ وہ "امن معاہدے" اور ہر طرح کی ثالثی سے دستبردار ہو رہے ہیں۔