حوثیوں کے حملوں سے جنگ بندی کے خاتمہ کو ہوا خطرہ اور یمنی حکومت نے کیا خبردار

یمنی خواتین کو تعز گورنریٹ کے ایک گاؤں میں اپنے گھروں سے دور جگہوں سے پانی لے جاتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے (اے ایف پی)
یمنی خواتین کو تعز گورنریٹ کے ایک گاؤں میں اپنے گھروں سے دور جگہوں سے پانی لے جاتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے (اے ایف پی)
TT

حوثیوں کے حملوں سے جنگ بندی کے خاتمہ کو ہوا خطرہ اور یمنی حکومت نے کیا خبردار

یمنی خواتین کو تعز گورنریٹ کے ایک گاؤں میں اپنے گھروں سے دور جگہوں سے پانی لے جاتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے (اے ایف پی)
یمنی خواتین کو تعز گورنریٹ کے ایک گاؤں میں اپنے گھروں سے دور جگہوں سے پانی لے جاتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے (اے ایف پی)
عینی شاہدین کے مطابق ایک عوامی پارک میں عید منانے والے رہائشیوں میں ہونے والی بمباری کی وجہ سے خوف و ہراس کی کیفیت پھیل چکی ہے جبکہ حوثی ملیشیاؤں نے پرسو روز تعز کے محلوں پر میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعہ حملہ کیا ہے جس میں کم از کم 10 افراد زخمی ہوئے ہیں اور یمنی حکومت نے حوثیوں کے اس حملے کو ایک دشمنی میں اضافہ سمجھا ہے جس سے یمن میں گزشتہ اپریل کے دوسرے مہینے سے جاری اقوام متحدہ کی جنگ بندی کو نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے۔

قانونی حکومت نے امن کے اس موقع کو نقصان پہنچانے سے خبردار کیا ہے جس کے سلسلہ میں اقوام متحدہ دشمنی کے مستقل خاتمے کی کوشش کر رہی ہے اور یمنی وزیر برائے امور خارجہ اور تارکین وطن احمد عواد بن مبارک نے اس حملے کو بین الاقوامی اور انسانی قانون اور اقوام متحدہ کی جنگ بندی کی صریح خلاف ورزی قرار دیا ہے اور ٹویٹر پر ایک ٹویٹ کرتے ہوئے انہوں نے ملیشیا کو موجودہ جنگ بندی کے ذریعے پیش کردہ امن کے موقع سے محروم ہونے کے خطرے سے خبردار کیا ہے اور کہا ہے کہ جنگ بندی امن کے لیے ایک کھڑکی ہے اور ملیشیا اس موقع کو نقصان پہنچانے کی ذمہ داری اٹھائے گی۔(۔۔۔)

جمعرات 04 شوال المعظم  1443 ہجری  - 05  اپریل   2022ء شمارہ نمبر[15864]