الشرق الاوسط سے ابراہیم کی گفتگو: سعودی عرب نے ذمہ دار قیادت کا عالمی نمونہ پیش کیا ہے

الشرق الاوسط سے ابراہیم کی گفتگو: سعودی عرب نے ذمہ دار قیادت کا عالمی نمونہ پیش کیا ہے
TT

الشرق الاوسط سے ابراہیم کی گفتگو: سعودی عرب نے ذمہ دار قیادت کا عالمی نمونہ پیش کیا ہے

الشرق الاوسط سے ابراہیم کی گفتگو: سعودی عرب نے ذمہ دار قیادت کا عالمی نمونہ پیش کیا ہے
دنیا کو درپیش معاشی چیلنجوں کے درمیان سعودی عرب نے ایک روشن تصویر پیش کیا ہے جو مضبوط بحالی اور نتیجہ خیز معاشی اصلاحات کی کہانی پر مرکوز ہے جس کی وضاحت مملکت کے وزیر برائے اقتصادیات اور منصوبہ بندی فیصل الابراہیم نے ڈیووس فورم کے موقع پر اشرق الاوسط کے ساتھ ایک انٹرویو میں کی ہے۔

الابراہیم نے اس بات پر زور دیا ہے کہ سعودی عرب نے "کووڈ-19" بحران کے دوران خطے اور دنیا میں ایک اہم کردار ادا کیا ہے اور انہوں نے مزید کہا کہ مملکت نے انسانی ستون کے ساتھ ذمہ دارانہ قیادت اور پائیدار اقتصادی تبدیلی کے لیے عالمی ماڈل پیش کیا ہے اور خاص طور پر نوجوانوں کی صلاحیتوں میں سرمایہ کاری، خواتین کو بااختیار بنانے اور معیشت کو متنوع کرنے پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے وژن 2030 کے مقاصد حاصل کرنے کے لئے اپنی وزارت کی ترجیحات کا جائزہ لیا ہے اور یاد رہے کہ انہوں نے نوجوانوں کو اپنا پہلا سرمایہ سمجھا ہے۔

ابراہیم نے کہا کہ "وژن" نے اصل میں 2030 تک لیبر مارکیٹ میں خواتین کی شرکت کی شرح کو 17 سے 30 فیصد تک بڑھانے کا منصوبہ بنایا ہے اور انہوں نے مزید کہا کہ آج یہ شرح 36 فیصد تک پہنچ گئی ہے جس کا مطلب ہے کہ ہم نے وژن کی طرف سے مقرر کردہ ہدف کو پار کر لیا ہے اور انہوں نے مزید کہا کہ سعودی عرب میں 40 فیصد کاروباری خواتین ہیں۔(۔۔۔)

منگل  22 شوال المعظم  1443 ہجری  - 24   اپریل   2022ء شمارہ نمبر[15883]



سعودی عرب کا 3 یمنی گورنریٹوں میں پانی کے کنویں کھودنے اور انہیں تیار کرنے کا معاہدہ

اس معاہدے پر ریاض کے مرکزی ہیڈ کوارٹر میں مرکز برائے آپریشنز اینڈ پروگرامز کے اسسٹنٹ جنرل سپروائزر انجینئر احمد البیز نے دستخط کیے (واس)
اس معاہدے پر ریاض کے مرکزی ہیڈ کوارٹر میں مرکز برائے آپریشنز اینڈ پروگرامز کے اسسٹنٹ جنرل سپروائزر انجینئر احمد البیز نے دستخط کیے (واس)
TT

سعودی عرب کا 3 یمنی گورنریٹوں میں پانی کے کنویں کھودنے اور انہیں تیار کرنے کا معاہدہ

اس معاہدے پر ریاض کے مرکزی ہیڈ کوارٹر میں مرکز برائے آپریشنز اینڈ پروگرامز کے اسسٹنٹ جنرل سپروائزر انجینئر احمد البیز نے دستخط کیے (واس)
اس معاہدے پر ریاض کے مرکزی ہیڈ کوارٹر میں مرکز برائے آپریشنز اینڈ پروگرامز کے اسسٹنٹ جنرل سپروائزر انجینئر احمد البیز نے دستخط کیے (واس)

کل پیر کے روز، سعودی عرب نے "کنگ سلمان انسانی امدادی مرکز" جے ذریعے یمن کے گورنریٹ حضرموت کے علاقے الساحل اور الوادی، الحدیدہ گورنریٹ میں الخوخہ اور گورنریٹ شبوہ میں رضوم کے علاقے بئر علی میں پانی کے کنوؤں کی کھدائی اور انہیں تیار کرنے کے منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کے لیے سول سوسائٹی کے ایک ادارے کے ساتھ ایک مشترکہ تعاون کے معاہدے پر دستخط کیے۔

مرکز میں صحت اور ماحولیات کے شعبہ کے ڈائریکٹر ڈاکٹر عبداللہ المعلم نے وضاحت کی کہ معاہدے کی رو سے حضرموت، حدیدہ اور شبوہ کے گورنریٹس میں پروجیکٹ کے علاقوں میں 8 نئے کنویں کھودے جائیں گے اور انہیں شمسی توانائی کے نظام کے ذریعے 5 میٹر بلند ٹینکوں سے جوڑا جائے گا تاکہ ہمہ وقت پانی کی رسائی کو یقینی بنایا جا سکے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ حدیدہ کے علاقے الخوخہ میں ایک ٹاور ٹینک اور شبوہ کے علاقے رضوم میں ایک سطحی ٹینک تعمیر کیا جائے گا۔

المعلم نے نشاندہی کی کہ اس معاہدے میں حضرموت اور حدیدہ میں 9 پرانے کنوؤں کو بحال کر کے انہیں شمسی توانائی کے نظام سے منسلک کرتے ہوئے 5 میٹر بلند ٹینک بنائیں جائیں گے، علاوہ ازیں واٹر کارپوریشن کے پانی اور سیوریج کے بنیادی ڈھانچے سے منسلک عملکے کے 34 افراد کو کنویں کے اجزاء اور لوازمات کی تنصیب کے عمل کے ذریعے فیلڈ کی تنصیب اور ان کی دیکھ بھال کے امور کی تربیت دی جائے گی۔ نیز شمسی توانائی کے نظام سے 65,300 افراد براہ راست مستفید ہونگے۔

منگل-03 شعبان 1445ہجری، 13 فروری 2024، شمارہ نمبر[16513]


سعودی عرب نے یمن کے لیے اربوں ڈالر کی گرانٹ کی اپنی دوسری قسط دے دی

سعودی تعاون کے ساتھ 4 یمنی گورنریٹوں میں دیہی تعلیم تک رسائی کے منصوبے کی تنفیذ کے معاہدے پر دستخط (واس)
سعودی تعاون کے ساتھ 4 یمنی گورنریٹوں میں دیہی تعلیم تک رسائی کے منصوبے کی تنفیذ کے معاہدے پر دستخط (واس)
TT

سعودی عرب نے یمن کے لیے اربوں ڈالر کی گرانٹ کی اپنی دوسری قسط دے دی

سعودی تعاون کے ساتھ 4 یمنی گورنریٹوں میں دیہی تعلیم تک رسائی کے منصوبے کی تنفیذ کے معاہدے پر دستخط (واس)
سعودی تعاون کے ساتھ 4 یمنی گورنریٹوں میں دیہی تعلیم تک رسائی کے منصوبے کی تنفیذ کے معاہدے پر دستخط (واس)

سعودی عرب نے کل یمنی حکومت کے بجٹ خسارے کو پورا کرنے کے لیے 250 ملین ڈالر کی منتقلی کا اعلان کیا، جو کہ سعودی قیادت کی جانب سے قانونی حکومت کی حمایت میں دی جانے والی ایک بلین ڈالر کی گرانٹ کی دوسری قسط ہے۔ یمن میں سعودی عرب کے سفیر اور یمن کی ترقی اور تعمیر نو کے سعودی پروگرام کے جنرل سپروائزر محمد آل جابر نے کل تصدیق کی کہ خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی ہدایت پر یمنی حکومت کے بجٹ خسارے سے نمٹنے کے لیے امداد کی دوسری قسط عدن میں یمن کے مرکزی بینک کو منتقل کر دی گئی ہے۔

یمنی صدارتی قیادت کونسل کے سربراہ ڈاکٹر رشاد العلیمی نے سعودی قیادت کا شکریہ ادا کیا اور "X" پلیٹ فارم پر اپنے اکاؤنٹ کے ذریعے کہا کہ "یمن کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے مملکت سعودیہ کا نقطہ نظر مخلصانہ یکجہتی کی ایک مثال ہے، یہ ہمارے شہریوں کی ترجیحات کے جواب میں ہے جو اپنے حالات زندگی، سلامتی، ترقی اور امن کو بہتر بنانے کی خواہش رکھتے ہیں، نہ کہ مزید جنگ اور بحران چاہتے ہیں جو دہشت گرد حوثی ملیشیا اور ان کے ایرانی حامیوں کی طرف سے پیدا کی جاری ہے۔"

پیر-02 شعبان 1445ہجری، 12 فروری 2024، شمارہ نمبر[16512]


ریاض میں "بین الاقوامی دفاعی نمائش" نے 7 ارب ڈالر کے خریداری کے معاہدے حاصل کر لیے

ریاض میں منعقدہ عالمی دفاعی نمائش کے دوسرے ایڈیشن کا منظر (واس)
ریاض میں منعقدہ عالمی دفاعی نمائش کے دوسرے ایڈیشن کا منظر (واس)
TT

ریاض میں "بین الاقوامی دفاعی نمائش" نے 7 ارب ڈالر کے خریداری کے معاہدے حاصل کر لیے

ریاض میں منعقدہ عالمی دفاعی نمائش کے دوسرے ایڈیشن کا منظر (واس)
ریاض میں منعقدہ عالمی دفاعی نمائش کے دوسرے ایڈیشن کا منظر (واس)

رواں سال سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں منعقدہ عالمی دفاعی نمائش کے دوسرے ایڈیشن میں 26 ارب ریال (تقریباً 7 بلین ڈالر) کے 61 خریداری کے معاہدوں پر دستخط کیے گئے، جب کہ اس نمائش میں 116 ممالک کی نمائندگی کرنے والے 773 نمائش کنندگان اور 441 سرکاری وفود نے شرکت کی اور اس کا تیسرا ایڈیشن 2026 میں منعقد ہونے کی امید ہے۔

نمائش کو 106 ہزار افراد نے دیکھا اور نمائش کے ایام میں 73 معاہدوں پر دستخط کیے گئے، جن میں 17 صنعتی شرکت کے معاہدے بھی شامل ہیں۔

سعودی عرب کی جنرل اتھارٹی برائے ملٹری انڈسٹریز کے گورنر انجینئر احمد بن عبدالعزیز العوہلی نے نمائش کے اختتام کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ یہ عالمی تقریب خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبد العزیز کی سرپرستی اور ولی عہد، وزیر اعظم اور جنرل اتھارٹی برائے ملٹری انڈسٹریز کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے چیئرمین شہزادہ محمد بن سلمان کی مسلسل دلچسپی اور پیروی کی بدولت "اس نمائش کو یہ عظیم کامیابی حاصل ہوئی کہ دنیا کی بہترین دفاعی اور سیکورٹی نمائشوں میں سے ایک بنی اور یہ سعودی قیادت کی جانب سے اسے خاص اہتمام دینے کی عکاس ہے۔ علاوہ ازیں یہ (وژن 2030) کے مطابق فوجی خدمات اور آلات پر 50 فیصد اخراجات کو مقامی بنانے کے ضمن میں ہے۔" (...)

جمعہ-28 رجب 1445ہجری، 09 فروری 2024، شمارہ نمبر[16509]