الشرق الاوسط سے گفتگو کرنے والے لیبیا کے سیاست دانوں کا خیال ہے کہ دبیبہ کی جانب سے صنع اللہ کی برطرفی اور ان کی جگہ فرحات بن قدارہ کی تقرری تیل کے شعبے کو سیاست میں استعمال کرنے کا ایک بے مثال اقدام ہے اور اس سے قبل بیرونی اور اندرونی فریقوں کے درمیان ایک وسیع مذاکراتی عمل شروع کیا گیا تھا جسے باشاغا اور ان کی حکومت کی حمایت کو نظر انداز کیا گیا ہے، تاہم، باشاغا کے قریبی یہ بتاتے ہیں کہ وہ کسی اور پر بھروسہ کرنے کے بجائے اپنے پیروکاروں کی مضبوط حمایت اور خواہش پر بھروسہ کرتے ہوئے دارالحکومت طرابلس میں داخل ہونے کی کوشش کر رہے ہیں۔(۔۔۔)
ہفتہ 17 ذی الحجہ 1443 ہجری - 16 جولائی 2022ء شمارہ نمبر[15936]