"ڈاؤننگ اسٹریٹ کی جنگ" میں ٹیرس فیشن ان کا آخری ہتھیار ہے

برطانوی وزیر اعظم کی جنگ میں ٹیرس فیشن ایک ہتھیار ہے (ٹویٹر)
برطانوی وزیر اعظم کی جنگ میں ٹیرس فیشن ایک ہتھیار ہے (ٹویٹر)
TT

"ڈاؤننگ اسٹریٹ کی جنگ" میں ٹیرس فیشن ان کا آخری ہتھیار ہے

برطانوی وزیر اعظم کی جنگ میں ٹیرس فیشن ایک ہتھیار ہے (ٹویٹر)
برطانوی وزیر اعظم کی جنگ میں ٹیرس فیشن ایک ہتھیار ہے (ٹویٹر)
برطانوی وزیر خارجہ لیز ٹیرس کا 10 ڈاؤننگ سٹریٹ کا دورہ ایک ایسی جنگ تھی جس میں ملبوسات سمیت تمام ہتھیار استعمال کیے گئے ہیں۔

نئی وزیر اعظم نے اپنے ملبوس کو اس طرح سے ہم آہنگ کرنے کی کوشش کی ہے جس سے ملک جن مشکل سیاسی اور معاشی حالات سے گزر رہا ہے اس کو پڑھنے کی عکاسی ہو رہی ہے اور تبصرہ نگاروں نے اشارہ کیا ہے کہ ٹیرس کے ملبوسات صدارت تک پہنچنے کی جنگ میں ان کا آخری ہتھیار ہے اور نیویارک ٹائمز میں فیشن ڈیپارٹمنٹ کی سربراہ وینیسا فریڈمین نے بتایا ہے کہ فیشن لیز اور ان کے حریف رچی سنک کے درمیان مقابلے کا ایک حصہ تھا اور ان سے پہلے ٹریسا مے اور مارگریٹ تھیچر کی طرح بہت سی خواتین کے لئے فیشن کسی نہ کسی طریقے سے اپنے سیاسی رجحان کا اظہار کرتا ہے۔(۔۔۔)

جمعرات 11 صفر المظفر 1444ہجری -  08 ستمبر   2022ء شمارہ نمبر[15990]   



روس کا یوکرین میں ہزاروں ٹینکوں کو کھونے کے بعد اپنے پرانے ٹینکوں کو دوبارہ استعمال کرنے کی کیا کہانی ہے؟

کیف کے قریب روسی ٹینک (روئٹرز)
کیف کے قریب روسی ٹینک (روئٹرز)
TT

روس کا یوکرین میں ہزاروں ٹینکوں کو کھونے کے بعد اپنے پرانے ٹینکوں کو دوبارہ استعمال کرنے کی کیا کہانی ہے؟

کیف کے قریب روسی ٹینک (روئٹرز)
کیف کے قریب روسی ٹینک (روئٹرز)

ایک معروف تحقیقی مرکز نے کل منگل کے روز کہا کہ روس، یوکرین جنگ میں 3 ہزار سے زیادہ ٹینک کھو چکا ہے جو کہ جنگ سے قبل اس کے مجموعی ذخیرے کے برابر ہے، لیکن اس کے پاس کم معیار کی کافی بکتر بند گاڑیاں ہیں جو بدلنے کے لیے سالوں سے محفوظ ہیں۔

خبر رساں ادارے "روئٹرز" کے مطابق انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ برائے اسٹریٹجک اسٹڈیز نے کہا ہے کہ فروری 2022 میں روسی حملے کے بعد سے یوکرین کو بھی بھاری نقصان اٹھانا پڑا ہے، لیکن مغرب کی جانب سے فوجی امداد ملنے سے اس کے اسٹاک اور معیار کو بہتر بنانے میں مدد ملی۔

انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ برائے اسٹریٹجک اسٹڈیز کی سالانہ ملٹری بیلنس رپورٹ، جو کہ دفاعی تجزیہ کاروں کے لیے ایک اہم تحقیقی آلہ ہے، کے مطابق روس کا ٹینکوں کی کثیر تعداد کو کھو دینے کے بعد اب بھی اس کے پاس یوکرین سے لڑنے کے لیے تقریباً دو گنا زیادہ ٹینک موجود ہیں، جب کہ صرف پچھلے سال میں روس نے تقریباً 1120 ٹینکوں کو کھو دیا ہے۔

انسٹی ٹیوٹ میں فوجی صلاحیتوں کے ماہر ہنری بائیڈ نے کہا کہ ہتھیاروں کو بدلنے سے صرف نظر روس نے ٹینکوں کے نقصان میں تقریباً "برابری کا نقطہ" حاصل کر لیا ہے۔ جیسا کہ ایک اندازے کے مطابق اس نے پچھلے سال تقریباً 1,000 سے 1,500 اضافی ٹینکوں کو شامل کیا تھا۔(...)

بدھ-04 شعبان 1445ہجری، 14 فروری 2024، شمارہ نمبر[16514]