"تائیوان کے دورہ" امریکہ پر چین ناراض

بیجنگ کی "اشتعال انگیزی" پر تنقید... اور واشنگٹن کی اسے "زیادہ ردعمل" نہ دکھانے کی تنبیہ

تائیوان کی خاتون صدر کل وسطی امریکہ کے لیے اپنی پرواز سے پہلے ایئر پورٹ پہنچنے پر (ای پی اے)
تائیوان کی خاتون صدر کل وسطی امریکہ کے لیے اپنی پرواز سے پہلے ایئر پورٹ پہنچنے پر (ای پی اے)
TT

"تائیوان کے دورہ" امریکہ پر چین ناراض

تائیوان کی خاتون صدر کل وسطی امریکہ کے لیے اپنی پرواز سے پہلے ایئر پورٹ پہنچنے پر (ای پی اے)
تائیوان کی خاتون صدر کل وسطی امریکہ کے لیے اپنی پرواز سے پہلے ایئر پورٹ پہنچنے پر (ای پی اے)

تائیوان کی خاتون صدر تسائی انگ وین کا وسطی امریکہ کے دورہ کے دوران امریکہ میں رکنے پر چین کو غصہ آیا اور اس نے دورے کو "اشتعال انگیزی" قرار دیا۔
شیڈول کے مطابق تسائی اپنے واپسی کے سفر میں گوئٹے مالا، بیلیز اور لاس اینجلس جاتے ہوئے نیویارک جانے والی ہیں۔
تسائی انگ وین کا وسطی امریکہ کا یہ دورہ تائیوان اور ان 13 ممالک کے درمیان تعلقات کو مضبوط کرنے کی کوششوں کے ضمن میں ہے جو ابھی بھی اس جزیرے کو سرکاری طور پر تسلیم کرتے ہیں۔
تسائی نے تائیوان سے روانہ ہونے سے قبل ایئرپورٹ پر صحافیوں کو بتایا کہ "بیرونی دباؤ ہماری حوصلہ شکنی نہیں کر سکتا۔" ہم پرسکون اور پراعتماد ہیں۔ ہم (دوسروں کو) تسلیم نہیں کریں گے اور نہ ہی اکسائیں گے۔"
تسائی کا ریاست ہائے متحدہ امریکہ کا یہ دورہ 2019 کے بعد پہلا اور 2016 میں عہدہ سنبھالنے کے بعد سے ساتواں ہے۔ (...)

جمعرات - 8 رمضان 1444 ہجری - 30 مارچ 2023 عیسوی شمارہ نمبر [16193]
 



پاکستان میں انتخابات مکمل... اور نواز شریف کی قیادت میں مخلوط حکومت کے امکانات

نواز شریف کل جمعرات کو لاہور میں اپنا ووٹ کاسٹ کرتے ہوئے (اے پی)
نواز شریف کل جمعرات کو لاہور میں اپنا ووٹ کاسٹ کرتے ہوئے (اے پی)
TT

پاکستان میں انتخابات مکمل... اور نواز شریف کی قیادت میں مخلوط حکومت کے امکانات

نواز شریف کل جمعرات کو لاہور میں اپنا ووٹ کاسٹ کرتے ہوئے (اے پی)
نواز شریف کل جمعرات کو لاہور میں اپنا ووٹ کاسٹ کرتے ہوئے (اے پی)

پاکستان میں کل عام انتخابات مکمل ہوئے، جب کہ حکومت کی طرف سے انتخابات کے عمل کے دوران سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر موبائل فون سروس منقطع کرنے کے فیصلے کے باوجود بھی تشدد اور دھاندلی کے شبہات سے پاک نہیں تھے۔

مبصرین نے توقع کی کہ سابق وزیر اعظم عمران خان کی قید اور ان کی پارٹی "تحریک انصاف" اور فوجی اسٹیبلشمنٹ کے درمیان مباحثوں کے زیر سایہ کمزور انتخابی مہم کے بعد رائے شماری میں شرکت کرنے والوں کی شرح میں کمی دیکھی جائے گی، جیسا کہ 128 ملین ووٹرز نے وفاقی پارلیمنٹ کے لیے 336 نمائندوں کو اور صوبائی اسمبلیوں کو منتخب کرنا تھا۔

سابق وزیر اعظم نواز شریف کی قیادت میں ان کی پارٹی "پاکستان مسلم لیگ ن" کو سب سے خوش قسمت شمار کیا جاتا ہے، لیکن اگر وہ اکثریت حاصل نہیں کر پاتے ہیں، جس کا امکان ہے، تو وہ ایک یا زیادہ شراکت داروں کے ساتھ مل کر اتحاد کے ذریعے اقتدار سنبھال لیں گے، جس میں لالاول بھٹو زرداری کی زیر قیادت ان کی خاندانی جماعت "پاکستان پیپلز پارٹی" بھی شامل ہے۔

مبصرین نے کل کے انتخابات کو "صورتحال بدل کر"  2018 کے انتخابات سے تشبیہ دی ہے، کیونکی اس وقت نواز شریف کو متعدد مقدمات میں بدعنوانی کے الزام میں سزا ہونے کی وجہ سے امیدواری سے باہر کر دیا گیا اور عمران خان فوج کی حمایت اور عوامی حمایت کی بدولت اقتدار میں آئے۔ دوسری جانب، نواز شریف نے لاہور میں اپنا ووٹ کاسٹ کرتے ہوئے اس بات سے انکار کیا کہ انہوں نے اقتدار میں واپسی کے لیے فوج کے ساتھ کوئی معاہدہ کیا ہے۔ (...)

جمعہ-28 رجب 1445ہجری، 09 فروری 2024، شمارہ نمبر[16509]