اگرچہ اب تک اس میں کوئی پیشرفت نہیں ہوسکی ہے تاہم ایک فلسطینی ذرائع نے کہا ہے کہ مصر نے کوشش کی ہے اور وہ کوشش کر رہا ہے کیونکہ یہ آدمی مشترکہ طور پر نمائندگی کرتا ہے اور سب سے پہلے یہ صدر عباس کے بعد کی مدت کے لئے زیادہ مناسب ہو سکتا ہے اور دوسری بات یہ ہے کہ اس کو تحریک فتح اور حماس دونوں میں زبردست قبولیت حاصل ہے اور یہ اس تقسیم کو ختم کرنے میں نمایاں کردار ادا کرسکتا ہے۔(۔۔۔)
جمعرات 014 جمادی الاول 1441 ہجرى - 09 جنوری 2020ء شماره نمبر [15017]