اس طرح کی صورتحال میں یہ کہنا حیرت کی بات نہیں ہے کہ لبنانی عوام کی پریشانی روز مرہ کی ساتھی ہے اور مارکیٹ میں پائی جانے والی اعصابی پرسکون دوائیوں کی عیر معمولی مانگ کی وجہ سے اس کا اسٹاک ہی ختم ہو چکا ہے اور اس کی سبسڈی بھی ختم کردی گئی ہے اور بھی دوائیں ہیں جو ختم ہو چکی ہیں جیسے کینسر اور دائمی بیماریوں کی دوائیں ہیں اور فارماسسٹ سنڈیکیٹ کے سربراہ غسان الامین نے "الشرق الاوسط" کو بتایا ہے کہ 2015 سے اس سال تک اعصابی نشے کی شرح میں 20 فیصد اضافہ ہوا ہے۔(۔۔۔)
اتوار 14 ربیع الآخر 1442 ہجرى – 29 نومبر 2020ء شماره نمبر [15342]