جرجرلی اوغلو کے ذریعہ ٹویٹر پر ٹویٹس کرنے کی وجہ سے ان کے خلاف دہشت گردی کے الزام لگائے گئے پھر انہیں ڈھائی سال قید کی سماعت جاری کرنے کے عدالتی فیصلے کے کے تحت پارلیمانی رکنیت سے علیحدہ کردیا گیا جس کے بعد انہوں دھرنے میں 4 راتیں گزاری ہے پھر آخر کار انہیں پارلیمنٹ میں ان کے دھرنے کی جگہ سے گرفتار کرلیا گیا ہے اور اب دارالحکومت انقرہ کے پراسیکیوٹر آفس میں ان کی شہادت لینے کے بعد انہیں رہا کیا گیا ہے۔(۔۔۔)
پیر 09 شعبان المعظم 1442 ہجرى – 22 مارچ 2021ء شماره نمبر [15455]