صدارتی انتخابات میں شامی شہریوں کے الگ ہونے کے واقعات

گزشتہ روز الاسد کو دمشق کے غوطہ میں حزب اختلاف کے سابق گڑھ ڈوما میں اپنا ووٹ ڈالنے کے بعد دیکھا جا سکتا ہے (رائٹرز)
گزشتہ روز الاسد کو دمشق کے غوطہ میں حزب اختلاف کے سابق گڑھ ڈوما میں اپنا ووٹ ڈالنے کے بعد دیکھا جا سکتا ہے (رائٹرز)
TT

صدارتی انتخابات میں شامی شہریوں کے الگ ہونے کے واقعات

گزشتہ روز الاسد کو دمشق کے غوطہ میں حزب اختلاف کے سابق گڑھ ڈوما میں اپنا ووٹ ڈالنے کے بعد دیکھا جا سکتا ہے (رائٹرز)
گزشتہ روز الاسد کو دمشق کے غوطہ میں حزب اختلاف کے سابق گڑھ ڈوما میں اپنا ووٹ ڈالنے کے بعد دیکھا جا سکتا ہے (رائٹرز)
گزشتہ روز سرکاری فوج کے زیر کنٹرول علاقوں میں شامی شہری ملک کے صدر کو منتخب کرنے کے لئے پولنگ اسٹیشنوں کی طرف متوجہ ہوئے ہیں جبکہ شام کے شمال مغرب، شمال مشرق اور جنوب میں حزب اختلاف نے اس انتخاب کے بائیکاٹ کئے جانے کا اعلان کیا ہے اور ساتھ ہی صدر بشار الاسد کی فیصلہ کن فتح کی توق تو پہلے ہی سے ہے اور اس توقع کو تقویت اس وقت ملی جب انتخابات کی وجہ سے خود شامی شہریوں کی تقسیم میں شدت آگئی ہے۔

امریکہ، جرمنی، برطانیہ، فرانس اور اٹلی کے وزرائے خارجہ نے منگل - بدھ کی شب ایک بیان میں کہا ہے ہے کہ انتخابات آزادانہ اور منصفانہ نہیں ہوں گے اور انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ غیرجانبدارانہ طور پر اسد حکومت کی طرف سے ایک بار پھر قانونی حیثیت حاصل کرنے کی کوشش کو مسترد کریں۔(۔۔۔)

جمعرات 15 شوال المعظم 1442 ہجرى – 27 مئی 2021ء شماره نمبر [15521]