جنرل جوزف عون کا پیرس کا دورہ فرانس کی دارالحکومت لبنانی فوج کے ایک کمانڈر کے ذریعہ پہلا نہیں ہے تاہم عون کا دورہ مہمان نوازی کے لحاظ سے قابل ذکر ہے اور خاص طور پر الیزیہ محل میں فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون کے ذریعہ جو استقبال کا منظر پیش کیا گیا ہے اور اس اقدام کو پروٹوکول کے اعتبار سے غیر معمولی سمجھا گیا ہے اور اس کو صرف تباہ کن پیشرفت کی روشنی میں ہی سمجھا جاسکتا ہے جس سے لبنان کو سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور لبنان کے سیاسی طبقے کو اپنا بچاؤ اقدام اٹھانے کے لئے پیرس کے ذریعہ دباؤ ڈالے جانے میں ناکامی ملی ہے اور یاد رہے کہ یہ اقدام میکرون نے گزشتہ موسم گرما میں لبنان کے اپنے دو دوروں کے دوران تجویز کیا تھا۔
یہ بات واضح ہے کہ ان مذاکرات کا نمایاں حصہ وہی ہے جو فرانسیسی وزیر دفاع فلورنس پارلی کی زبانی سامنے آئی ہےاور الیزیہ محل نے میکرون کی زبانی نقل کیا ہے اور وہ یہ ہے کہ پیرس لبنانی فوج کو لبنان میں حقیقی استحکام کی سنگ بنیاد سمجھتا ہے اور انہیں زندگی کے ان چیلنجوں کا سامنا ہے جن کے بارے میں ان تین اہم ملاقاتوں میں تبادلہ کیا گیا ہے جن کا انعقاد جنرل جوزف عون نے اپنے فرانسیسی ہم منصب چیف آف اسٹاف، وزیر دفاع اور صدر جمہوریہ کے ساتھ کیا ہے۔(۔۔۔)
جمعہ 16 شوال المعظم 1442 ہجرى – 28 مئی 2021ء شماره نمبر [15522]